” بھوکوں کے ہاتھ ” ، تحریر عمیر علی انجم 

نجانے کیوں آج لاہور کی سڑکوں پر گھومنے والا وہ درویش شاعر ساغر صدیقی یاد آرہا ہے اور اس کا مصرعہ تو میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا ہے۔۔۔۔۔ساغر نے کہا تھا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ” اور مجھے سمیت بے روزگار ہونے والے میرے سیکڑوں بے روزگار ساتھی آج ساغر کے اس مصرعے کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر بڑا دکھ ہے کونسا ؟؟؟؟ نوکری سے نکالے جانے کا ۔۔۔۔۔کٹھن وقت میں دوستوں کی بے وفائی کا ۔۔۔یا پھر جن کے ہاتھوں میں اپنی لگامیں دی تھیں ان کی بے حسی کا ۔۔۔۔۔۔بھوک کے سائے کتنے گہرے ہوتے ہیں اگر کسی کو اس کا جواب چاہیے تو وہ میرے بے روزگار صحافیوں سے استفسار کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔وہ بتائیں گے کہ زندگی کی کتنی کٹھن ہے اور اس بھوک کے سائے میں کیا کیا چیزیں گھپ اندھیرے میں چھپ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔وہ آپ کی آرزوئیں بھی ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔۔آپ کے بچوں کے خواب بھی ۔۔۔۔۔آپ کا سکھ بھی ۔۔۔۔۔آپ کا آرام بھی ۔۔۔۔ اور آپ کا خود پر اعتماد بھی ۔۔۔۔ان تمام چیزوں کو بھوک کا سایہ نگل جاتا ہے ۔۔۔۔۔

میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ ایسے حالات میں کھانے کی گرینڈ تقریبات اور گرینڈ بھوک کا فرق لوگوں کو سمجھ میں کیوں نہیں آتا ہے ۔۔۔۔۔میرے ہاتھوں میں فخریہ انداز میں جاری کی گئی ایک پریس ریلیز ہے ۔۔۔۔اس میں متعدد تقریبات میں قائم کی جانے والی کمیٹیوں کے نام ہیں گن گن کر میں تھک گیا ہوں ۔۔ ۔۔۔۔۔کیا منظم لوگ ہیں ۔۔۔۔اور کیا ہی خوب طریقہ واردات ہے ۔۔۔۔ہر ایونٹ میں کم از کم 20کمیٹیاں تھیں ،جو اس صرف ایک تقریب کو منعقد کرانے کے لیے بنائی گئی تھی ۔۔۔۔۔اور کوئی ایک ایسی کمیٹی نہیں ہے جو صحافیوں کے روزگار کی بحالی اور ان کی بھوک مٹانے کے لیے بنائی گئی ہو ۔۔۔۔یہ کتنا بڑا تضاد ہے ۔۔۔۔آپ کو آخر ہوا کیا ہے ۔۔۔۔آپ کے ذہنوں کو زنگ کیوں لگ گئے ہیں ۔۔۔۔آپ کے قلم کیوں بک گئے ہیں ۔۔۔۔آپ وہی زبان کیوں بولتے ہیں جو مالکان بولتے ہیں ۔۔۔آپ کو تو ہم نے اپنا رہنما مانا تھا ۔۔۔۔۔آپ لٹیرے کب سے بن گئے اور کیوں بن گئے ۔۔۔۔۔حضور !گرینڈ افطارعشائیوں کے لیے کمیٹیاں اور سنجیدہ اقدامات کے لیے طفل تسلیاں یہاں کہاں کا انصاف ہے ۔۔۔۔۔

آپ آخر بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کو اپنی نوکریاں عزیز ہیں ۔۔۔۔۔آپ کو اپنے مفادات پیارے ہیں ۔۔۔۔۔آپ کو بھوک ڈراتی ہے ۔۔۔۔۔آپ کا کوئی نظریہ نہیں ہے ۔۔۔۔آپ بوتل میں بند وہ جن ہیں جن کا چراغ رگڑ رگڑ کر صحافیوں کے ہاتھوں کی لکیریں تک مٹ گئی ہیں اور جن ہے کہ بوتل سے باہر آنے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔۔آپ اپنی ناکامیوں اور مفاد پرستی کا اعتراف کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔مجھے علم ہے کہ آپ ایسا نہیں کرسکتے ہیں ۔۔۔۔یہ کرنے کے لیے ایک زندہ ضمیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔جب کسی کے منہ پر اپنے ساتھیوں کا خون لگ جائے تو پھر کیسا ضمیر اور کس کا ضمیر ۔۔۔۔۔جب زندگی کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی رہ جائے تو کیسی قیادت اور کس کی قیادت ۔۔۔۔۔پھر صرف ڈھونگ رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔اور یہ ڈھونگ آپ پھر چاہے قیادت کے نام پر کریں یارہنمائی کے نام پر کریں ۔۔۔۔اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا تھا نہ کہ آج ساغر صدیقی بہت یاد آرہا ہے ۔۔۔۔۔فقیر کہتا تھا کہ ” جس عہد میں لٹ جائے فقیر وںکی کمائی ۔۔۔۔اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے” ۔۔۔۔۔۔آج صحافیوں کی کمائی تو کیا ان کی زندگی ہی لٹ گئی ہے ۔۔۔۔۔اور ہمارے سلطان ”گرینڈعشائیوں کے موجدین” سے صرف بھول نہیں ہوئی ہے انہوںنے گناہ عظیم کیا ہے ۔۔۔۔۔میڈیا مالکان کے یہ ہم پرمسلط رہنما اب کسی گناہ کا کفارہ بھی ادا کرنا چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔صاحب !وقت گزر گیا ۔۔۔۔بھوکوں کے ہاتھ آپ کی جانب آرہے ہیں ۔۔۔۔اب کوئی گرینڈ عشائیوں،کوئی برنچ پارٹی اور کوئی فیسٹولز آپ کی ڈھال نہیں بنے گا ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: