جوڑیا بازار :‌ اربوں‌روپے مالیت کا نیا کرپشن اسکینڈل

کراچی (آغاخالد وقائع نگار خصوصی ) : شہر قائد کی تاریخ کا ایک اوربڑا اسکینڈل سامنے آنے ولا ہے جس میں اربوں روپیہ مالیت کے تجارتی پروجیکٹ نیو جوڑیا بازار کی ساکھ داؤ پر لگ گئی اور چودہ الاٹیز کی شکایت پر اینٹی کرپشن نے پروجیکٹ کےمتعلق تحقیقات شروع کردی ہے۔

ایس پی اینٹی کرپشن ایسٹ ضمیر عباسی نے مختلف سرکاری محکموں کو لیٹر نمبر DD/ACE/K/E/2019/4499 بتاریخ 17/09/2019.کے ذریعئے رپورٹ طلب کرلی ہے کہ اس پروجیکٹ کا اسٹیٹس کیا ہے اور آیا اس کی اب تک کی الاٹمنٹ قانونی ہے انھوں نے خبریں کے سوال پر کہاکہ شکایت بہت حساس نوعیت کی ہے اس لئے ابھی کچھ کہ نہیں سکتا تفصیلات مل جائیں پھر پریس سے شیئر کرونگا واضع رہے کہ کراچی میں راشن اور دیگر سینکڑوں ضروریات زندگی کی اشیاء کی ہول سیل کی بڑی مارکیٹ جوکہ سٹی کورٹ سے ٹاور تک کئی کلو میٹر کے ایریا میں پھیلی ہوئی ہے میں ٹریفک کے شدید دبائو اورتیزی سے پھیلتے ہوئے کراچی کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کے سبب گزشتہ 20 سالوں میں اس کی شہر سے باہر منتقلی کے کئی سرکاری منصوبے بنے مگر وہ فائیلوں تک ہی محدود رہے تاہم اسی دوران صابر راجپوت اور ان کے ساتھیوں نے نجی شعبے میں ایک نیو جوڑیا بازار کے نام سے پروجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا تاہم ابتدائی مرحلےمیں ہی صابر اور ان کے ساتھی سید عدنان حسین میں نیو جوڑیا بازار کی باقاعدہ رجسٹریشن پر اختلافات پیدا ہوگئے اور صابر نے اس گروپ سے علیحدہ ہوکر اپنا الگ کام کرنے کی کوششیں شروع کردیں جبکہ سید عدنان حسین اور ان کے کچھ ساتھیوں نے منصوبے کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے5 ماہ قبل اس کی باقاعدہ بکنگ بھی شروع کردی اور ایک تقریب میں انھوں نے 600 سو الاٹیز کی قرعہ اندازی کرکے انہیں پلاٹ الاٹ کرنے کی نوید سنادی جبکہ صابر راجپوت کا یہ بھی دعوا ہے کہ عدنان گروپ نے ایک اور پراپرٹی ڈیلر کو 40 فائیلیں 2لاکھ روپیہ پر فائیل کے حساب سے فروخت کی ہیں اور اب عدنان گروپ نے جوڑیا بازار سے متصل بولٹن مارکیٹ میں باقاعدہ دفتر بھی کھول لیا ہے جبکہ دوسری طرف تاجر اتحاد کے ترجمان حاجی اسماعیل نے ایک وڈیو بیان ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر چلایا ہے جس میں پروجیکٹ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ تصدیق کے بعد ہی پروجیکٹ میں پلاٹس کی بکنگ کروائیں وہ یا ان کی ایسوسی ایشن اس کی ذمہ دار نہ ہوگی انھوں نے خبریں کے رابطہ کرنے پر کہاکہ جمیل پراچہ اور دیگر تین عہدیدار سید عدنان کو سپورٹ کرہے ہیں مگر میں ان سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں ،

اپنا تبصرہ بھیجیں: