کراچی، شہری یرغمال، اسٹریٹ کرملنز آزاد، 9 ماہ میں‌ ڈکیتی وارداتوں‌ میں‌ 32 جاں بحق، 284 زخمی

شہر قائد میں اسٹریٹ کرمنلز کو کھلی چھٹی، پولیس کی کالی بھیڑوں اور مسلح افراد کا مضبوط نیٹ ورک قائم ، تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنے لگیں

کراچی میں امن و امان کے دعوے جھوٹ نکلے، رواں سال کے 9 ماہ میں ڈکیتی کے دوران 32 شہری جاں بحق

ڈکیتیوں نے 284 شہریوں کو مزاحمت پر گولیاں بھی ماری، 20 سے زائد تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملیں

کراچی: شہر قائد میں ایک بار پھر اسٹریٹ کرائم کا جن بے قابو ہوگیا اور مسلح افراد نے پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کی مدد سے کراچی میں اپنا مضبوط نیٹ ورک قائم کرلیا اور آزادانہ لوٹ مار کرنے لگے۔

شہر قائد میں رواں سال کے ابتدائی 9 ماہ میں ڈکیتی کے دوران 32 شہری جاں بحق جبکہ مزاحمت پر 284 ڈکیتوں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے، پولیس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال 20 سے زائد تاجروں کو بھتے کی پرچیاں بھی موصول ہوئیں۔ اعلیٰ حکام کے مطابق جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی پولیس میں موجود کالی بھیڑیں کررہی ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے پولیس میں موجود جرائم پیشہ اہلکاروں کے خلاف اقدامات کا عندیہ دے دیا، انہوں نے نشے میں مبتلا افسران و اہلکاروں کو آخری وارننگ بھی دی جس کے بعد متذکرہ افراد کے خلاف سخت ایکشن ہوگا۔

پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر قائد میں ہونے والی وارداتوں میں60فیصدمنشیات کےعادی ملوث ہیں، واقعات کے بڑھنے کی دوسری وجہ عدالت میں کیمیکل ایگزامن رپورٹ قابل قبول نہیں ہوتی، ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سےایگزامن رپورٹ مستردہوجاتی ہیں، رپورٹ مستردہونےسےملزم کوپہلی پیشی پرضمانت مل جاتی ہے۔

اے آئی جی کا کہنا تھا کہ کراچی پولیس گزشتہ دنوں2اہم ایونٹس میں مصروف رہی، محرم اورسری لنکاپاکستان میچ میں پولیس کی نفری مصروف رہی، ان2 ایونٹس کےدوران نفری کم ہونے سےبھی وارداتیں ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: