پاکستان اور بھارت کے مذاکرات کس صورت ہوسکتے ہیں، فاروق ستار نے بتا دیا

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کی تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 ختم کر کے مودی سرکار نے لکیر کھیچ دی، اگر 35 اے کی شق دوبارہ بحال کی جائے تو مذاکرات کے راستے کھل سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم پاکستان) بحالی کمیٹی ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی مرکزی ذمہ داران سید شاہد پاشا، انجینئر کاشف خان، پنجاب چیپٹر کے انچارج کاشف بچاری و ممبران اور کشمیر کمیٹی کے مرکزی اراکین کے ہمراہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقات ہوئی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے کشمیریوں اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے آیا ہوں، مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوامِ متحدہ کی قرارداد کیمطابق کشمیری بھائیوں کو حق خودارادیت کے تحت اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے، 64 روز سے جاری غیر انسانی کرفیو کو فی الفور ختم کیا جائے اور انسانی حقوق کی پامالی پر انسانی حقوق کے ادارے نوٹس لیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے جذبہ حریت، قربانیوں اور جدوجہد کو خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آرٹیکل 370 ختم کرکے مودی سرکار نے ایک لکیر کھینچ دی ہے پاکستان کے لیے ممکن نہیں اس صورتحال پر مذاکراتی عمل میں جائے، آرٹیکل 35اے اگر دوبارہ بحال کیا جاتا ہے تو مذاکرات کے راستے کھل سکتے ہیں۔

اس متنازعہ خطے میں مداخلت کرکے نریندر مودی اور اس کی سرکار نے جواہر لعل نہرو اور بھارت کے اکابرین کی جو پالیسیاں ہیں ان کی خلاف ورزی کی ہے، وزیراعظم عمران خان نے پاکستان، کشمیر کا اور مذہب اسلام کا مقدمہ بین الاقوامی فارم پر رکھا وہ انتہائی مناسب تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: