وقت کھبی آتا نہیں لایا جاتا ہے، تجزیہ :سیدمحبوب احمدچشتی

شہرقائد میں کچرہ سیاست نے دماغ بھی کچراکرکے رکھ دیاہے۔میٹروپولیٹن سٹی کی کچھ کچھ حثیت رکھنے والاشہرکراچی کی بدنصیبی دیکھئے کہ عالیشان مکان والے اورعالیشان دماغ والے سب کچرے کی بات اورسیاست کرتے نظرآرہے ہیں اور پھراس پرصحافت بھی عروج پرنظرآرہی ہے۔یہ مقام سیاست وصحافت کہ ہم کچرے پر مسلسل لکھ اوربول رہے ہیں کچھ کہنے والے ایم کیوایم کو ہی مکمل قصور قراردیتے ہیں اب یہ سمجھناضروری ہے کہ ایم کیوایم واقعی زمہ دارہے یاالزامات کی سیاست میں ہم ہرچیزکوپس پردہ ڈال کے بغض ایم کیوایم میں ہرگھڑی تیارکامران ہیں ہم۔ یہاں چندکی غلطیوں پرپوری ایم کیوایم کونشانہ بناناسمجھ سے بالاترہے کیونکہ جوغلطیاں ایم کیوایم سے ہوئی ہیں اس سے کہیں بڑی بڑی غلطیاں تمام سیاسی جماعتوں سے ہوچکی ہیں لیکن ان پربات کرنا خوف کاسبب ہے یانفرت اس پرفیصلہ وقت ہی کریگا

ایم کیوایم کی طرز سیاست کو سمجھنے کے لئیے ٹھنڈے دماغ کی ضرورت ہے مختلف گروپس میں تقسیم کے عمل سے فی الحال مہاجرووٹرز وقتی پریشان ضرور ہوا تھالیکن اب صورتحال اس جانب جاتی نظرآرہی ہے جہاں حقیقت پہلے سے موجود ہے اعتراف کا عمل باقی ہے  اب یہ تسلیم کرلینا چاہیئے کہ کراچی کی سیاست میں تبدیلی کبھی نہیں آسکتی کیونکہ جو تبدیلی آج سے 40 سال پہلے آگئی وہی تبدیلی اہل کراچی نے قبول کرلی اب اس نقطے پرکسی کو اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور جو اختلاف نہیں کرتے وہ اس حقیقت کو دل میں رکھ اپنی اظہار محبت کو کسی وقت کے لیئے بچاکر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ بظاہر تومحبت کے اظہار کے لیئے وقت کھبی آتا نہیں ہے بلکہ وقت کو لایا جاتا ہے اور اس مرتبہ اگر اظہار محبت وعقیدت میں کچھ وقت لگ رہا ہے تو اس میں قصور دونوں فریقوں کا ہے جو مناسب وقت میں ایک دوسرے کو سمجھ نہیں پارہےہیں اور اپنی محبت کی تلخیوں کو غیروں کے سامنے رکھ کر اسکا حل بھی طلب کرلیا اب حل بتانے والوں نے اپنی عقل وشعور کے مطابق جب ان تلخیوں کو حل کرنا شروع کیا تو دونوں فریقوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا تو یہ ادراک ہوا کہ دل کے معاملات پر کسی اجنبی کو شریک نہیں کرنا چاہیئے تھالیکن ان تمام صورتحال میں کم ازکم ایک بات طے ہوگئی کہ پیار ے پاکستان میں نظریہ یاتوخوف کا شکار ہو کر یاپھربرائے فروخت کاشکارہوکرہی ختم کردیاجاتاہے۔شاید اب یہ کہا جاسکتا ہےکہ پاکستان میں نظریاتی سیاست کاخاتمہ ہوچکاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: