کراچی: (نامہ نگار میم عین دال) کراچی یونیورسٹی میں کورنیول کے سلسلسے میں اے پی ایم ایس او اور جامعہ سیکٹر نے مشاعرے کا اہتمام کیا، جس کی صدارت سینئر اور استاد شاعر انور شعور نے کی، مجموعی طور پر اگر بات کی جائے تو اسلامی جمعیت طلباء، پاک سرزمین پارٹی اسٹوڈنٹ فیڈریشن اور اے پی ایم ایس او سمیت دیگر طلبا تنظیموں نے تقاریب کا انعقاد کیا۔
اسلامی جمعیت طلبا نے 24 اکتوبر کو مشاعرے کا انعقاد کیا جس میں انور شعور، وجیہ ثانی، عنبرین حسیب عنبر سمیت دیگر کراچی و بیرون شہر سے تعلق رکھنے والے شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا، طالب علموں نے اس موریختہ کی تقریب میں زیادہ دلچسپی کے ساتھ شرکت نہ کی اور نشستیں خالی رہیں۔
اے پی ایم ایس او کی جانب سے منعقدہ مشاعرے کو مہاجر ثقافتی میلے کا نام دیا گیا جس میں کراچی کے نوجوان شاعر عبد الرحمان مومن نے اپنا کلام پیش کیا علاوہ ازیں شاعر عارف شفیق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، اس کے علاوہ ابھرتے ہوئے نوجوان شعرا علی زریون اور تہذیب حافی کو مدعو کیا گیا۔
دیگر شعرا کرام کی بات کی جائے تو اُن میں رونق حیات، عارف شفیق، حکیم ناصف، قیصر وجدی (جو آرگنائزر بھی تھے)، حیدر حسنین جلیسی، شائستہ سحر، ثبین سیف و دیگر شامل تھے۔
پنڈال میں ایک ہزار سے زائد شرکا کی گنجائش تھی جو مشاعرہ شروع ہونے سے قبل ہی پوری ہوچکی تھی اسی باعث دیر سے آنے والے طالب علموں کو دیواروں پر بیٹھ کر اور چبوتروں پر کھڑے ہوکر شعرا کو سننا پڑا، اسی طرح پنڈال کے دائیں اور بائیں جانب تقریباً 500 سے طالب علم کھڑے تھے، مجموعی طور پر اگر بات کی جائے تو 2 ہزار سے زائد طالب علموں نے مشاعرہ سُنا۔
https://www.facebook.com/kurians.students.society/videos/414702039447143/
مہمان شعرا کرام میں تہذیب حافی کو سننے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی البتہ علی زریون نے مہاجریت اور ہجرت کرنے والوں کے حق میں اشعار سُنا کر مشاعرہ اپنے نام کیا، طلباء کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کو تھوڑی بہت مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
https://www.facebook.com/kainat.farooq8/videos/2408712582779722/
علی زریون نے بتایا کہ وہ تیس برس بعد جامعہ آئے جبکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 2003 کے بعد یہ کھلی فضا کا مشاعرہ ہے جس میں سب نظم و ضبط کے ساتھ بیٹھے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان، رکن رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری اور محمد شکیل جبکہ ایم پی اے علی خورشیدی، صداقت علی، محمد حسین اور ضلع وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی بھی مشاعرے میں شریک ہوئے۔ اختتام پر شعرا کرام کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئیں۔
دو اہم باتیں
مشاعرے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ مہاجر ثقافت کے نام سے منسوب پروگرام میں دیگر قومیتوں کے طالب علموں نے بھی شرکت کی اور مشاعرے سے استفادہ کیا، جبکہ اگر ادب کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ مشاعرے سے زیادہ کنسرٹ کا ماحول تھا، صدر مشاعرہ کو جب مدعو کیا گیا تو پنڈال میں چند ہی لوگ موجود تھے جو کسی بھی نا انصافی سے کم نہیں، اگر مجموعی طور پر موازانہ اور بات کی جائے تو یہ دیگر کے مقابلے میں بہتر پروگرام تھا اور امید ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں یہ مزید بہتر ہوگا۔
https://www.facebook.com/AllAbout.MQM/videos/2851924538153260/
