اسلام آباد: اپوزیشن کی جانب سے بنائی جانے والی رہبر کمیٹی کے کنونیئر نے آزادی مارچ کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا پانچ سو لوگ کہیں تو استعفیٰ دیدوں گا، ہم اس الیکشن میں 9 اپوزیشن کے چار کروڑ بہتر لاکھ لوگ سامنے لے آئے ہیں، بلاول بھٹو، شہباز شریف اور دیگر جماعتوں کے قائدین اپنی پارٹی اور اپنے ووٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں، ہمارا دھرنا عمران خان کے خلاف ہے کسی اور کے خلاف نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو دونوں کی مجبوریاں تھیں جس وجہ سے وہ نہیں آئے، مریم نواز کی ضمانت کا آج فیصلہ ہے شہباز شریف نے وہاں جانا تھا، جو بھی فیصلہ ہو گا آج موقع پر ہو گا۔ اکرم درانی کا کہنا تھا کہ میں اپنے اثاثے الیکشن کمیشن میں ظاہر کر چکا ہوں، ایف آئی اے، نیب اور ایجنسیاں ظاہر کردہ اثاثوں سے ایک مرلہ زیادہ زمین یا ایک روپیہ زیادہ لے آئیں تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
رہبرکمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں احتجاج کے دوران ایک گملا یا پتہ نہیں ٹوٹا، ہم آزادی مارچ کے بعد ہائی ویز، پورے اضلاع اور ملک بند کر دیں گے اور جیل بھرو تحریک شروع کریں گے، پوری اپوزیشن آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، لوگوں کے اتنے بڑے مجمعے پر طاقت کے استعمال کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
