غیرملکی چینلز کے خودساختہ نمائندہ گان پاکستان بھر سے اکثر سامنے آتے ہیں اور وہ ادارے کا نام استعمال کر کے بڑی بڑی شخصیات تک باآسانی رسائی حاصل کرلیتے ہیں البتہ جب اداروں سے ان کے بارے مٰں معلوم کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص ادارے کا کبھی ملازم نہیں تھا۔
اسلام آباد پشاور چوک پر ہونے والے دھرنے کے بعد وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد پہنچی اور ان میں وہ شخص بھی پہنچا جو کئی سالوں سے پاکستانی سیاستدانوں سمیت دیگر وزرا کو بی بی سی کے نام پر بے وقوف بنا رہا ہے۔
طاہر عمران میاں نے اس شخص کو دھرنے میں دیکھا تو تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ نوسر باز سے ہوشیار رہیں کیونکہ اس کا بی بی سی سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے جعلی صحافی کی اہم سیاستدانوں کے ساتھ انٹرویو کی تصاویر بھی شیئر کیں۔
طایرعمران میاں کے مطابق جعلی صحافی بننے والے شخص کا نام ضیا مغل ہے جو فیس بک پر بی بی سی کے نام سے جعلی چیزیں چلا رہا اور لوگوں کو متاثر کرتا ہے، اس جعلی شخص نے اپنے فیس بک پر بی بی سی سے ملازمت ملنے والا جعلی لیٹر بھی شیئر کیا ہوا ہے۔
اس ٹویٹ کے نیچے مکمل تھریٹ دیکھیں
“Living the story”
For the record he is not a BBC employee. pic.twitter.com/K7hSbc3evh— Tahir Imran Mian ✈ (@TahirImran) November 3, 2019
ضیا مغل بی بی سی کے نام پر سیاستدانوں تک رسائی حاصل کر کے اُن کا انٹرویو فوکس نیوز کے لیے کرتا ہے جو غالباً ان کا اپنا ہی ویب ٹی وی ہے۔
بی بی سی سے وابستہ نامور صحافی اور نیوز اینکر شفیع نقی جامعی نے مذکورہ شخص کی تصاویر اور تفصیل پر لکھا کہ ’’یہ جعلساز ہے۔ بڑے بڑے نام نہاد لیڈران اور وزراء کرام اس کے جال میں پھنس چکے، اس بے وقوف آدمی کا تعقب کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کریں کہ اس چغد کا بی بی سی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے‘‘۔
#جھوٹا و #مکّار اور #جعلسازہے یہ
بڑے بڑے نام نہاد لیڈر اور وزراء کرام اسکے جال میں پھنس چکے ہیں
اس چُغد کو چیلنج کریں، اسکا تعقب کریں اور قانون نا فذ کرنے والے اداروں کو مطّلع کریں
اس جعلساز کا @BBC سے کوئی لینا دینا نہیں
تعاون کا شکریہ
شفیع نقی جامعی https://t.co/V6zJh9ezwF
— Shafi Naqi Jamie (@ShafiNaqiJamie) November 3, 2019
