ینئیر صحافی بابر صدیقی پر ہونے والے حملے اور پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کئے جانے پر بھرپور مذمت۔
سینئیر صحافی بابر صدیقی کی فیملی کو جلانے کی کوشش۔
مکان مالک کے بیٹوں کاشف اور ثاقب نے پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی جو ناکام بنادی گئی۔
تیموریہ تھانے کے ایس ایچ او راو ناظم کا مقدمہ درج کرنے سے انکار۔
کراچی: تیموریہ تھانے کی حدود بفرزون میں رہائش پزیر بابر صدیقی کا اپنے مالک مکان سے اپنے ایڈوانس کی واپسی پر تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد بابر صدیقی نے بذریعہ وکیل اپنے مالک مکان کو نوٹس بھیجا جس پر مالک مکان انور آگ بگولہ ہوگیا اور بیٹوں ثاقب اور کاشف کے ہمراہ بابر صدیقی کے گھر گیا مغلظات بکنے کے ساتھ گھر کے اندر پیٹرول سے بھری بوتل پھینک دی اور آگ لگانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکے۔تیموریہ تھانے کو اس کی فوری اطلاع دی گئی جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد جمع کرلئیے۔ لیکن ایس ایچ او تیموریہ راو ناظم نے درخواست تو جمع کرلی لیکن مقدمہ درج کرنے کے بجائے مخالف پارٹی سے صلح کے لئے دباو ڈال رہا ہے۔پاک میڈیا کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اعلی حکام اس واقعے کا فوری نوٹس لیں کیونکہ بابر صدیقی اور اس کی فیملی کی جان کو خطرہ ہے۔
