عید میلاد النبی پر محبوب چشتی کی ایمان افروز تحریر

سرور کا ئنات وروشن چراغ انسانیت حضرت محمد مصطفی ۖ

تحریر :سید محبوب احمد چشتی

اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد پیارے نبی  سے محبت اور انہیں تمام دنیاوی مال و دولت ، عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز رکھنا تکمیل ایمان کی اولین شرط ہے ۔ایمان کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بے پناہ محبت ہمارا نصب العین نہ ہو اور آپ ۖ ہمیں دنیا کی ہر شہ سے زیادہ عزیز نہ ہوں اللہ تعالیٰ سورة لنسا ء میں فرماتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ ۖ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔اطا عت محمد ۖ اطاعت الٰہی کا دوسرا نام ہے ۔چھٹی صدی عیسوی زمانہ جاہلیت کا سیاہ ترین دور تھا سخت المناک اور شرمناک حالت نے اس وقت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ہر طرف فسق و فجو ر ظلم مکرو فریب ۔قتل و غارت گری ، بے حیائی اور بے شرمی کا بازار گرم تھا یہ واقعات صرف دنیائے عرب کے ساتھ مخصوص نہ تھے ۔بلکہ ساری دنیا میں ہوسناکی اور سفاکی کی لرزہ خیز داستانیں رقم کی جا رہی تھیں ۔ایک بھیانک اندھیرا تھا جس نے قرہ ارض کو چاروں طرف سے لپیٹ میں لے رکھا تھا ان حالات میں مشیت الٰہی نے بنی نوع انسان کو اس ہولناک تاریکی سے نکالنے کیلئے حضرت محمد ۖ کو عرب کے شہر مکہ میں مبعوث فرمایا تاکہ آپ ۖ رشد و ہدایت کا آفتاب بن کر ساری دنیا کو اپنی ضیا پاشیوں سے منور فرما دیں۔یہ صبح نو بہار بارہ ربیع الاول کو بروز دو شنبہ بمطابق 20اپریل571 ء طلوع ہوئی جب عبداللہ جگر گوشہ آمنہ ، شہنشاہ بحر و بر سید العرب والعجم عالم قدس سے عالم امکان میں تشریف لائے۔والدہ محترمہ حضرت آمنہ  نے ”محمد ۖ”نام رکھا دادا نے اسی نام کا اعلان کر دیا ۔آپ ۖ کے والد جناب عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا اس لئے اپنی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ  کی آغوش عاطفت میں پرورش پانے لگے آپ ۖ کا شجرہ نسب جو حضرت اسماعیل  سے جا کر ملتا ہے اس طرح ہے ۔محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئے بن غالب بن فہیر بن مالک بن نغار بن کنانہ بن خزیمہ بن مدریکا بن الیاس بن مدر بن تزار بن معاد بن عدنان بن قیدار بن اسماعیل ۔آپ ۖ کے جد اعلیٰ ہاشم بن مناف کے چا ر لڑکے اور پانچ لڑکیاں تعین تھیں ۔انکی زوجہ مسلمیٰ بنت عمر بن زید یثرب کی رہنے والی تھیں اور ان کا تعلق خزرج کے خاندان بنی نجاد سے تھا ان کے ایک فرزند عبدالمطلب تھے جو حضرت محمد ۖ کے دادا اور قبیلہ قریش کے معزز سردار تھے ۔عبدالمطلب کے بارہ لڑکے تھے حمزہ  ، عباس  ، ابو طالب ، عبدالمناف ، ابو لہب ، عبدالعزّ ی ، زبیر ، مقوم ضرار ، مغیرہ ، حارث ، عبداللہ ان میں سے حضور اکرم ۖ کے دو چچا حضرت حمزہ  اور حضرت عباس  مشرف با اسلام ہوئے یہی حضرت عباس  ہیں جو خلفائے بنو عباس کے جد امجد اور عباس  علمدار کے نام سے تاریخ میں مشہور ہیں ۔ایک روایت کے مطابق عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اگر وہ اپنی زندگی میں 10بیٹوں کو جوان دیکھ لیں گے تو ایک بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کر دینگے ۔چنانچہ ایک دن وہ اپنے بیٹوں کو لے کر کعبہ میں آئے اور پجاری سے کہا کہ ”ان سب کے نام ”پر قرعہ ڈالو جس کے نام قرعہ نکلے گا میں اس کو قربانی کیلئے پیش کرونگا ۔اتفاق سے قرعہ ان کے سب سے محبوب بیٹے عبداللہ کے نام نکلا آپ عبداللہ کو لے کر قربان گاہ کی طرف چلے عبداللہ کی بہنیں ساتھ تھیں وہ رونے لگیں اور باپ سے کہا آپ ان کے بجائے 100اونٹ قربان کر دیجئے عبداللہ کو چھوڑ دیجئے پجاری نے پھر قرعہ عبداللہ اور 100اونٹوں پر ڈالا تو قرعہ اونٹوں پر نکل آیا عبدالمطلب نے (سو) اونٹ قربان کر دئیے۔ابن ہشام نے لکھا ہے کہ قبیلہ زہر ہ بن دہب عبد مناف کی بیٹی آمنہ حسن و جمال میں یکتائے روزگار تھیں ۔عبدالمطلب نے ان سے عبداللہ کی شادی کا پیغام دیا جسے بی بی آمنہ  کے اہل خانہ نے بخوشی منظور کر لیا اس طرح جناب عبداللہ اور بی بی آمنہ  رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔حضرت عبداللہ کی وفات کے بعد جناب آمنہ  کے ہاں حضرت محمد ۖ پیدا ہوئے جب آپ ۖ کی آٹھ سال دو مہینے عمر ہوئی آپ ۖ کے دادا عبدالمطلب کا انتقال ہو گیا ۔اس سے پہلے جب آپ ۖ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ  (ایواء ) کے مقام پر انتقال کر چکی تھیں اور وہیں آپ مدفون بھی ہوئیں ۔والدہ اور دادا کے انتقال کے بعد آپ ۖ کے چچا ابو طالب نے با کمال رافت و شفقت آپ ۖ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور جب تک زندہ رہے آپ ۖ کی تربیت فرماتے رہے اولاد سے بڑھ کر آپ ۖ کو چاہتے اور کبھی یتیمی کا احساس آپ کو نہ ہونے دیتے ۔(اسٹینلے لین پول ) نے اپنی کتاب (دی اسپیچز اینڈ ٹیبل ٹاک آف محمد ۖ)میں لکھا ہے کہ آپ ۖ میں شرم و حیا کا مادہ اتنا زیادہ تھا جیسا کسی پردہ نشین دو شیزہ میں ہوتا ہے ایک دوسرے یورپین مورخ (سرولیم میو ر ) نے اپنی تصنیف (لائف آف محمد ۖ ) میں لکھا ہے ۔مغرب کے تمام محققین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت محمد ۖ اپنی جوانی کے زمانے میں بے حد سنجیدہ ، کم سخن ، نرم گفتار ، خوش خلق ، شریف الطبع اور صادق القول تھے ۔جس کی وجہ سے قریش مکہ اور عوالناس نے آپ ۖ  کو صادق و امین کے لقب سے سرفراز کر دیا تھا۔دنیا میں بہت سے نبی ، مصلح ، پیشوا ، امام ، سورما ، بہادر پیدا ہوئے جن میں سے  ہر ایک کسی نہ کسی میدان کا شہہ سوار تھا کوئی سیاست کا پیش رو اور کوئی شجاعت دلیری کا امام تھا کسی نے اقتصادی اور معاشرتی کامیابی حاصل کی اور کسی نے اجتماعی انقلاب برپا کر دیا کوئی عملی میدان کا شہسوار رہا اور کوئی میدان کا ر زار کا مرد بہادر ہوا مگر ان میں سے کسی کو بھی عالمگیر ، ہمہ جہتی اور دائمی کامیابی و کامرا نی حاصل نہ ہوئی ۔لیکن سرکار دو عالم فخر کائنات حضرت محمد ۖ ہی کی وہ منور روح تھی جو رفعت فلک ، شکوہ صحرا اور اثبات کو ہ کی حاصل تھی جس کی عظمتوں کا جواب اور حرمتوں کا حساب نہیں ۔تاریخ کے پاس سکندر تو ہے جس نے پوری دنیا کو فتح کرنا چاہا مگر تاریخ ایسی ہستی تلاش نہیں کر سکتی جس نے حضرت محمد ۖ کی طرح پوری دنیا کی برائیوں کے خلاف اعلان جہاد کیا ہو چشم فلک نے کوئی ایسا حکیم انسانیت نہیں دیکھا جس نے باعث وجود کائنات حضرت محمد ۖ کی طرح لغزشوں ، قدرتوں اور ظلم و ستم کی آرائشوں کو مٹایا ہو زمانہ کسی ایسے رہنمائی کی مثال پیش نہیں کر سکتا جس نے مصطفی ۖکی طرح قافلہ انسانیت کی رہنمائی کر رکے اسے منزل کا پتہ دیا ہو آپ ۖ کی ذات اقدس ہر حیثیت سے شجاعت کا سرچشمہ اور دنیا ئے قائدین کی فکری اور عملی ترقیوں کا پیش خیمہ ہے ۔ختم المرسلین اور انسان کامل کی سیرت طیبہ تو خود خدا وند قدوس نے قرآن مجید میں بیان فرمادی ہے جن کی سیرت ، اخلاق و کردار کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ خود شہادت دے ان کے اخلاق و کردار پر کچھ لکھنا انسانی بس سے باہر ہے ۔قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ :
”آپ ۖ تو ایک چراغ ہیں بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ دکھانے والے دنیا سے گمراہی کا اندھیرا مٹانے والے ”
اس طرح قرآن پاک میں ایک اور مقام پر ارشاد ربانی ہے کہ ہم نے تمہار ابول بالا کیا تمہارے نام کے نقارے بجوائے کیساے نقارے پنج وقتہ اذان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ۖ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا دیا صرف لا الہ الا اللہ کہنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد محمد رسول ۖ کہنے سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔
آپ ۖ کی زندگی قول فعل اور تعلیم و عمل کا حسین مرقع ہے آپ ۖ کی سیرت قرآن پاک کی تفسیر ہے قرآن مجید نے خلق کو یوں بیان فرمایا ہے ۔
”بے شک آپ  ۖ خلق عظیم ہیں ۔”
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  سے آپ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ”آپ کا خلق قرآن ہے ۔”دنیا گواہ ہے جب صحابہ کرام اور شمع رسالت کے پروانے آپ ۖ کے عشق میں مبتلا ہو ئے تو دنیا کی ایک عظیم قوت بن کر ابھرے دریا ان کے سامنے سمٹ گئے ، پہاڑ رائی بن گئے اور پھر انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے بڑے بڑے پر جلال بادشاہوں پر اپنی دھاک بٹھا دی ان کی شجاعت اور بہادری کے سامنے دنیا کی عظیم سلطنتیں سرنگوں ہو گئیں ترک وطن ، تر ک عیش ، تر ک راحت و آرام و سکون ، بھوک و پیاس ، ظلم و ستم ، غرض کوئی بھی مصیبت بھی ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکی ان کے دل میں جو لگن تھی وہ کوئی ایسا نشہ نہ تھا جسے کوئی ترشی اتار دے :
”جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی ”
حضور سرور کائنات ۖ کی حیات طیبہ ہماری زندگی و آخرت کیلئے مشعل راہ ہے ۔آپ ۖ نے وصال سے قبل تاریخی و اصلاحی خطبہ دیا ۔یہ خطبہ نہ صرف آنحضرت ۖ کی فصاحت و بلاغت کا ایک بے مثال نمونہ ہے ۔بلکہ قیامت تک ہر زمان و مکان کیلئے تمام بنی نوع انسان کے واسطے ہدایت و رہنمائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے جس کا ایک ایک لفظ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے درحقیقت یہ خطبہ دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے پہلا آفاقی دستور ہے ۔آپ ۖ نے و ہ رات ذوالحلفیہ میں بسر کی صبح کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوئے ۔آپ ۖ نے فرمایا :”لوگوں قیامت کے روز اگر میری بیٹی فاطمہ  یا میری پھوپھی صفیہ کے نامہ اعمال میں نیکیوں کے مقابلے میں برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو میں اللہ کے حضور کوئی مدد نہیں کر سکوں گا ۔”پھر آپ ۖ  دنیا سے پردہ فرماتے وقت یہ آخری یہ الفاظ تھے ”لوگوں اپنی نمازوں کی حفاظت کرنا اپنے غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ‘۔آپ  ۖکو حضرت عائشہ صدیقہ  کے حجرے میں مدفون کیا گیا ۔آپ ۖ  نے قمری حساب سے 63سال کی عمر پائی ۔آپ  ۖکا روضہ مبارک جو دنیائے اسلام میں گنبد خضرا کے نام سے پہنچانا جاتاہے ۔آج بھی مرجع ہر خاص و عام ہے اللہ تعالیٰ دعا ہے کہ وہ ہمیں دین اسلام اور سنت نبوی ۖ اور سرکار دو عالم ۖ کی روشن تعلیمات پر قائم اور چلنے کی توفیق عطا ء فرمائے ۔(آمین)۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: