کراچی: احتساب عدالت نے مصطفیٰ کمال کے خلاف دائر غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد مصطفیٰ کمال نے شدید مایوسی کا اظہار کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل وزیر اعظم کی تقریر سے انتہائی مایوسی ہوئی ہے، مجھے اب کوئی امید نظر نہیں آئی کہ ملک میں کچھ بہتری ہوگی، یہ فیصلہ عدالتوں کا تھا ، مگر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہوں نے رحم کیا ، ملک میں آئینی بحران ہے، وزیر اعظم نے بلاول زرداری کی نقل اتار دی اسکا مطلب وہ سندھ کے وزیر اعلی سے بات نہیں کریں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پہلے دورہ کراچی کے بعد کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ بنگالی و افغانیوں کے شناختی کارڈ ہیں، کراچی کو 162 ارب روہے نہیں دیئے گئے، عوام اداروں کو نہیں ملک کو بچائینگے، اس حکومت سے وابستہ تمام امیدیں ختم ہوگئی، عمران خان میں ظلم انتہا کو پہنچ گیا ہے، عمران خان نے چیف جسٹس اور آئندہ چیف جسٹس کا نام لے کر کہا کہ عدالتی نظام کو بہتر کرے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس وقت عدالتی نظام بہتر تھا جب حکومت حمایتی فیصلے آرہے تھے، عدالتیں اپوزیشن کے خلاف فیصلہ دیں تو عدالتیں ٹھیک ہیں، یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ایسے نہیں چلے گا، سںدھ کے بچوں کو کتے کاٹ رہے ہیں، جس کی ویکسین نہیں ہے، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں، مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے، غریب مر رہا ہے مگر اس حکومت کو اپنی اجارہ داری کی پڑی ہے، ملک اس طرح نہیں چلے گا، ملک چلانے والوں کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے، بانی ایم۔کیو ایم الطاف حسین نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے، میں شکر کرتا ہوں کہ 3 سال قبل میری کی گئی پریس کانفرنس بالکل صحیح ثابت ہوئی۔
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ الطاف حسین مہاجروں کے نام پر سیاست کر رہا تھا، الطاف حسین کے انڈیا سے مدد مانگنے کے بیان پر کسی مہاجر کے گھر پر پولیس نہیں گئی ہے، مہاجروں پر سے الطاف حسین کا ٹیگ ہٹ چکا ہے، کراچی سے کشمور اور کشمور سے کشمیر تک کے نوجوانوں کو کہتا ہوں لہ میرے ساتھ آو، ہم ملک ٹھیک کر سکتے ہیں، ہمارے دامن کرپشن سے پاک ہے۔
