یوسف ٹھیلے والا، کرامات رکھنے والا ملزم!!

ایک روز قبل سندھ پولیس کے افسر ایس ایس پی ایسٹ نے تہلکہ خیز پریس کانفرنس انکشاف کیا کہ انہوں نے مفرور ، روپوش، ایک ایسے کراماتی (ملزم) ایم کیو ایم لندن کے ایسے کارکن کو گرفتار کیا جس نے 96 قتل کیے اور تمام کے تمام رہنماؤں کی ہدایت پر کیے۔

یوسف ٹھیلے والے کا ایک ویڈیو بھی چلایا گیا جس میں وہ یہ بتا رہا تھا کہ مفروری میں وہ 90 میں روپوش رہا، فاروق ستار نے اُسے کمرہ دلوایا، ندیم ماربل اور خالد سے ملاقات کروائی، ملزم نے پہلا قتل مخبری کے شبے میں پڑوسی کو کیا ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

پولیس افسر کی پریس کانفرنس کے بعد ایک بار پھر میڈیا ٹرائل کا سلسلہ شروع ہوا، مگر بھلا کو اچھا حافظہ رکھنے والوں کا کہ جنہوں نے اگست 2017 میں رینجرز کے ترجمان میجر قمبر کی پریس کانفرنس شیئر کی جس میں وہ یوسف ٹھیلے والے کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کررہے تھے۔

یوسف ٹھیلے والا نامی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد اگست 2017 میں رینجرز کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار ہونے والے شخص کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ وہ ماورائے عدالت قتل کیا جاچکا جبکہ ملزم نے خوف کی وجہ سے اندرونِ سندھ روپوشی اختیار کرلی تھی، اس پریس کانفرنس میں یوسف ٹھیلے والے کے بارے یہ بھی بتایا گیا کہ اُس نے خود کو رینجرز کے حوالے کیا تاکہ ماضی کی زندگی سے توبہ کرکے آئندہ بہتر زندگی گزارے۔

یوسف ٹھیلے والے کو دسمبر 2017 میں رہائی ملی جس کے بعد اُسے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے اٹھایا اور کئی ماہ تک حراست میں رکھا ابھی وہ گھر واپس آیا تھا کہ پولیس نے حراست میں لیا اور گزشتہ روز اُسے ایس ایس پی ایسٹ نے پریس کانفرنس میں پیش کیا۔

رینجرز کو چاہیے کہ وہ اس پریس کانفرنس کا جائزہ لے تاکہ اصل معاملے کو سامنے لایا جائے وگرنہ آپریشن کے نام پر اٹھنے والے سوالات ایسے باتوں سے مزید طاقتور ہوں گے اور سارا عمل مشکوک ہوجائے گا۔


تحریر : سیدہ حرا علی

اپنا تبصرہ بھیجیں: