اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ کالج لائف کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور میزبان کو بھی ڈبل مبارک باد دی، اُن کا کہنا تھا کہ وہ شخص جس نے کرتاپور راہداری منصوبہ کھڑا کیا، افغانستان باڑ لگائی، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ روابط استوار تھے۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں نے خود سمری پر رات ڈیڑھ بجے نیند سے اٹھ کر دستخط کیے، اس سارے معاملے میں ادارے کا تقدس پامال نہیں ہوا کیونکہ غلطیاں حکومت کی تھیں، وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بڑا مداح ہوں کیونکہ اُن کا مطالعہ زبردست ہے، وہ اچھے انسان ہیں اور اگر میرا بس چلے تو انہیں تین سال ملازمت میں توسیع دوں۔ وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ ایک مافیا نے مولانا فضل الرحمان کا دھرنے کا اہتمام کیا اور ایسی صورتحال پیدا کی، مدتِ ملازمت میں توسیع کا مسئلہ وزرا کا نہیں تھا کیونکہ بہت سارے کیسز علم میں نہیں آتے۔
شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ آرمی چیف کو میں بچپن سے جانتا ہوں، جب میں کالج چھوڑ کر گراؤنڈ میں بیٹھا ہوا تھا، اُس وقت یہ گارڈن کالج میں آئے تھے، ان کے ساتھ فواد احمد فواد صاحب تھے، سارے لوگوں کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا اور میں ایم ایس ایف پاکستان کا صدر تھا، میں جتنا جانتا ہوں آرمی چیف بردار، اور صابر شاکر قسم کا آدمی ہے، انہوں نے جس طرح کے اقدامات کیے وہ سہرا اُن کو ہی جاتا ہے۔
مکمل پروگرام کی ویڈیو
