ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے توہین مذہب کیس میں یونیورسٹی کے سابق لیکچرر جنید حفیظ کو سزائے موت سنادی۔
ملتان کی بہاالدین زکریا یونیورسٹی (بی زیڈ یو) کے ڈیپارٹمنٹ آف انگلش لٹریچر (انگریزی ادب) کے سابق وزٹنگ لیکچرار جنید حفیظ کو توہین مذہب کے الزام میں 13 مارچ 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اُن کے خلاف دائر مقدمے کی پہلی سماعت 2014 میں ہوئی تھی۔
کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج کاشف قیوم نے کی جنہوں نے جرم ثابت ہونے پر جنید حفیظ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ جرمانہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔ علاوہ ازیں جنید حفیظ کو دفعہ 295 بی کے تحت عمر قید اور 295 اے کے تحت 10 سال قیدبامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جنید حفیظ انگلش لٹریچر میں گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے مراحل میں تھے کہ انہیں فیس بک کی پوسٹس پر توہین مذہب کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ مقامی عدالت کے مختصر فیصلے کے مطابق تمام سزائیں تسلسل کے ساتھ چلیں گی اور ملزم سی آر پی سی کی دفعہ 382 بی کے فائدے کا حق دار نہیں ہوگا کیونکہ یہ توہین مذہب کا مقدمہ ہے اورعدالت اس معاملے پر نرم رائے نہیں رکھ سکتی کیونکہ اسلام میں بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔
Decision of #Blasphemy case against #JunaidHafeez pic.twitter.com/GW1W4J4kWw
— ZeeshanHaiderBBC (@ZesHPirzadA) December 21, 2019
