لاہور ریلوے اسٹیشن پناہ گاہ کے دروازے پر کھڑی سیما زارو قطار رو رہی تھی۔ خدا کے لئے مجھے پناہ دے دو، سیکیورٹی گارڈز اور مینیجر سب مل کر سیما کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پناہ گاہ خواتین کے لئے نہیں ہے۔
سیما نے میرا ہاتھ تھام لیا کہا خدا کے واسطے میری مدد کرو گڑیا۔ میں نے مینیجر سے بات کی، گزارش پر مینیجر نے سیما کو وقتی طور پر پناہ گاہ میں انٹری کی اجازت دے دی۔ میں نے موبائل نکالا اور ویمن پروٹیکشن ہیلپ لائن پر کال نے۔ جنہوں نے 15 پر کال کرکے مدد مانگنے کا کہا۔ 15 پر کال کی اور چار سے پانچ منٹ بعد ڈولفن فورس کے چار اہلکار دو ہیوی بائیکس پر پناہ گاہ کے باہر پہنچ گئے۔ کہنے لگے پہلے سیما کو تھانے لے جائیں گے۔ کاغذی کاروائی کی جائے گی اور پھر دیکھا جائے گا کہ سیما دارالعمان میں رہنے کی اہلیت پر پورا اترتی ہیں کہ نہیں۔ ریلوے اسٹیشن پناہ گاہ کے مینیجر تھانے جانے اور سیما کے اس کیس کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہوگئے۔ چونکہ سیما کے پاس موبائل نہیں اس لئے مینیجر صاحب نے رابطے میں رہنے کا وعدہ کیا۔ اس شرط پر کہ مینیجر صاحب اور “پناہ گاہ کے سارے کے سارے عملے کی تنخواہیں نہ ملنے کا مسلہ” حل کرنے کے لئے بھی میں آواز اٹھاوں گی۔ شرط مان لی گئی۔ سیما کا مسلہ حل ہوا نہیں تھا کہ لیہ سے آئی ایک فیملی کو بھی پناہ گاہ میں انٹری نہیں مل رہی تھی۔ کیوں کے فیملی میں خواتین بھی تھیں۔ ایک مرتبہ پھر مینیجر صاحب سے درخواست کی اور فیملی کو دسمبر کی یخ بستہ سردی میں کچھ دیر پناہ گاہ میں آرام کی اجازت دی جائے۔ مینیجر صاحب نے پھر ہماری درخواست قبول کر لی۔ اب معاملہ کچھ اس طرح سے ہے کہ سیما کو چھت دلوانے کے لئے کوشش جاری ہے۔ مگر ایک مرتبہ پھر آپ کی اطلاع کے لئے عرض کہ پناہ گاہوں میں عورتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے کھانا پک چکا ہے، مگر صرف بھوک سےنڈھال مرد اسے کھا سکتے ہیں۔ بھوک سے نڈھال عورتیں نہیں۔
مدیحہ عابد علی
https://www.facebook.com/madihaabidalii/posts/2577948522318721
