پولیو قطرے پینے سے تین سالا بچہ جاں بحق

کراچی کورنگی ساڑھے پانچ نمبر 100 کوارٹر کا رہائشی تین ماہ کا احمد رضا مبینہ طور پر پولیو ویکسین پینے سے جاں بحق ہو گیا۔ بچے کو اس کے گھر والے جناح ہسپتال مردہ حالت میں لے کر پہنچے۔

بچے کے دادا کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے بعد احمد کی طبیعت بگڑ گئی، منہ سے جھاگ نکلنے کے باعث اسے قریبی ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے بچے کو مردہ قرار دے دیا۔بچے کے ورثاء کا کہنا ہے کہ اس کی عمر انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے اس کا پوسٹ مارٹم کرانا مناسب نہیں۔

دوسری جانب انسداد پولیو کے حوالے سے قائم ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے بچے کی انسداد پولیو ویکسین کے باعث موت کی تردید کر دی ہے۔ ترجمان کے مطابق، آج تک کوئی بھی بچہ انسداد پولیو ویکسین سے جاں بحق نہیں ہوا جبکہ محکمہ صحت سندھ نے ہلاکت پر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

بعد ازاں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان میں پولیو کے لیے تعینات بختاور بھٹو اور سلمان احمد نے بچے کی پولیو سے ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری خام خیالی کی باتیں ہیں۔

جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمال کا کہنا ہے کہ بچے کی ہلاکت کا معمہ پوسٹ مارٹم کی صورت کے بعد ہی حل کیا جاسکتا ہے تاہم اہل خانہ نے اس کی شدید مخالفت کردی اور میت اپنے ہمراہ لے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں