پریس کلب انتخابات، کراچی کے بیٹے کی اپیل

انتخابی منشور کی سیاست میں نہیں کروں گا

میرا نام عمیر علی انجم ہے پیشے کے اعتبار سے ایک صحافی , شاعر اور کراچی میں بے روزگاری کی بھینٹ چڑھنے والےمفلسی کی زندگی گزارنے والے سفید پوش طبقے میں شمار کیے جانے والےصحافیوں کی آواز ہوں کراچی پریس کلب کے انتخابی عمل میں بطور آزاد امیدوار جوائنٹ سیکرٹری حصہ لے رہا ہوں الیکشن آزاد لڑنے کی بنیادی وجہ میری ناکامی ہرگز نہیں میری بغاوت ضرور ہے کیونکہ میں نام و نہاد صحافی تنظیمی کے سیاسی استعمال کا مہرہ بننا نہیں چاہتا میرے زخم ابھی تازہ ہیں ایک اچھا منشور دکھا کر اور جھوٹے وعدوں سے میں ممبران کی توجہ حاصل ضرور کر سکتا ہوں لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا کیونکہ میں چند ووٹوں کی خاطر اپنے ضمیر کو نہیں فروخت کر سکتا مجھے پتہ ہے میں موروثی سیاست کے آگے ہار جاو گا اور اقتدار کے پجاری فتح کا جھنڈا گاڑ دیں گے لیکن محمود غزنوی کی طرح ہار نہیں مانوں گا اور آخری دم تک مقابلہ کروں گا کیونکہ میں اپنے صحافیوں کو بے روزگاری کے دلدل سے نکالنا چاہتا ہوں مفاد پرست ٹولے کی سازشوں سے دور کرنا چاہتا ہوں ۔

ہاں اگر عمیر علی انجم کو ایک موقع دیا گیا تو آپ لوگوں کو پلاٹ دینے افطار ڈنر کرانے، فیملی گالا کرنے کے بجائے میں مرحوم ایوب بھائی ,عرفان ایس ایم بھائی جو اس فرسودہ نظام کی بھینٹ چڑھ کر ہم سے بہت دور چلے گئے ہیں ایسے مزید سفید پوش طبقے کے لیے اپنی خدمات ضرور وقف کروں گا آج ان تمام شخصیات کی اچانک موت مجھے رات بھر سونے نہیں دیتی میری لاچارگی کا احساس دلاتی ہے جس کے تحت میں اس بارکسی گروپ کا حصہ بننے سارا سال کٹھ پتلی کا نمونہ پیش کرنے کے بجائے آزاد کھڑا ہو رہا ہوں ہاں امید کی کرن کچھ روشن  ضرور ہوئی ہے کیونکہ اب صحافی جاگ چکا ہے وہ اس بار کسی سیاست کا حصہ نہیں بنے  گا اور درست امیدوار کا انتخاب کرے گا اور عرصہ دراز سے چلنے والی موروثی سیاست سے بغاوت ضرور کرے گا ۔