اسلام آباد / کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تاجروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ٹیکس ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے قوانین میں درستگی کردی۔
ایف بی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ تاجروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کر کے قوانین میں درستگی کی گئی، جس سے کاروبار مزید آسان ہوجائے گا اور اب ادارے کو تاجروں کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق نئے قوانین کے تحت ہر فروخت پر شناختی کارڈ کی شکل اب قانونی شکل اختیار کرگئی۔
ترجمان ایف بی آر کا کہنا تھا کہ تاجروں کا جائز مطالبہ تھا! اُن پر عائد ٹیکس کی شرح میں کم از کم کمی لائی جائے کیونکہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے زیادہ شرح کی وجہ سے اپنی فروخت کے اعداد و شمار دینے سے انکاری تھے۔ ترجمان ایف بی آر کا کہنا تھا کہ تاجروں میں فروخت کے درست اعداد و شمار کے رحجان کو تقویت دینے کے لئے ٹیکس کی کم از کم شرح کو قابل قبول بنایا گیا۔
’’اسی طرح تجارتی آسانی کے فروغ کے لئے درمیانے درجے کے تاجروں کو ودہولڈنگ سے چھوٹ دے دی گئی۔‘‘ ایف بی آر کا کہنا تھا کہ تمام تاجر تنظیموں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ درمیانے اور بڑے ری ٹیلرز کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کرایا جائے گا تاکہ کم ٹیکس دینے والے تاجروں کے ٹرن اوور کا جائزہ لیا جاسکے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق تاجر تنظیموں نے آڈٹ تنازعات کے حل کے لیے ایف بی آر کے ساتھ تعاون کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
