مزاحمت کا استعارہ ، امید کی کرن، عاصمہ جہانگیر

پاکستان میں غریت نادار افراد کے مقدمات بغیر فیس کے لڑنے والی خاتون وکیل اور بار کونسل کی عہدیدار عاصمہ جہانگیر کو گزرے دو برس بیت گئے۔

معروف قانون دان، سوشل ایکٹیوسٹ اور آمریت کے خلاف برسرپیکار عاصمہ جہانگیر دو برس قبل گیارہ فروری کو مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئی تھیں، ان کے ہم عصروں کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر خاتون تھیں لیکن اُن کی جدوجہد مردانہ تھی، وہ جمہوریت اور روشن خیالی کی شمع تھیں، انسانیت سے محبت ان کے خون میں شامل تھی۔

سفر زندگی

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں انسانی حقوق کے علمبردار ملک جیلانی کے گھر پیدا ہوئیں، انہوں نے کنیئرڈ کالج سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، وہ کالج دور میں ہی یحییٰ خان کی آمریت کے خلاف میدان میں آگئیں۔ عاصمہ جہانگیر ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف سینہ سپر اور عدلیہ بحالی تحریک میں پیش پیش رہیں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے بھی وہ ہمیشہ سرگرم اور جبری مشقت کے سخت خلاف رہیں۔ عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018 کو دماغ کی شریان پھٹنے سے اچانک دنیا سے رخصت ہوگئیں، بعد از مرگ انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر عاصمہ جہانگیر کو صارفین خراج تحسین پیش کررہے ہیں، جبکہ ہمیشہ کی طرح ناقدین اُن کی ملاقاتوں کی تصاویر شیئر کر کے غیر اخلاقی باتیں بھی لکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: