Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ٹویٹر کا سیاستدانوں‌ کے جھوٹ بے نقاب کرنے کا اعلان | زرائع نیوز

ٹویٹر کا سیاستدانوں‌ کے جھوٹ بے نقاب کرنے کا اعلان

سماجی رابطے اور مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر نے پلیٹ فارم پر جھوٹ بولنے والے سیاست دانوں اور صارفین کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹویٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر سیاستدانوں کے جھوٹ کا پردہ چاک کرے گا اور اُن کی غلط بیانیوں کی علیحدہ سے نشاندہی کرے گا۔

ٹوئٹر سیاست دانوں کے جھوٹ کو ’نارنجی رنگ‘ میں دکھائے گا جبکہ غلط بیانی پر مبنی ٹویٹس کو محدود بھی کردیا جائے گا تاکہ یہ وائرل ہونے سے رُک جائیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ اس بات پر بھی غور کررہی ہے کہ جھوٹ اور غلط خبروں پر مبنی مواد کو شوخ نارنجی اور سرخ رنگ میں دکھا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹویٹر نے اس منصوبے پر کام کا آغاز کردیا، جس کے تحت جانچ پڑتال یا خبر کی تصدیق کے لیے صحافیوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی تاکہ وہ مواد کے درست یا غلط ہونے کی نشاندہی کرسکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کے علاوہ عام صارف کے لیے بھی ایسی پوسٹ پر فیڈ بیک دینے کے لیے پارٹیسپیٹ یعنی ’حصہ لیجیے‘ کا بٹن رکھا جائے گا تاکہ وہ بھی ٹویٹر کو حقیقت سے آگاہ کرسکیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابل اعتراض یا بے بنیاد مواد پھیلنے والے صارف کے ٹویٹ کے ساتھ ’صارفین نے اس ٹویٹ کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جھوٹ قرار دیا لہذا اس کی تعداد کو محدود کیا جارہا ہے‘ جملہ تحریر کیا جائے گا ۔

دوسری جانب ٹوئٹر نے تصدیق کی ہے کمپنی نے اس فیچر کے حوالے سے سوچ بچار شروع کردی ہے، جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھے گا تو پروجیکٹ کے لیے لوگوں کو بھرتی بھی کیا جائے گا‘۔ ٹوئٹر ترجمان کے مطابق’ہم ٹویٹس کے سیاق و سباق اور غلط معلومات کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کئی طریقوں پر غور کر رہے ہیں، یہ آزمائشی مشق ان میں سے صرف ایک طریقے کے بارے میں تھی جس میں صارفین کا فیڈ بیک شامل تھا کیونکہ پلیٹ فارم کے ذریعے پھیلنے والی غلط خبریں ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہم اس سے نمٹنے کے لیے کئی طریقہ کار استعمال کریں گے۔‘