دہلی میں پرتشدد مظاہرے، مسلمانوں‌ کے ساتھ انسانیت سوز مظالم

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی میں دو روز سے جاری پرتشدد ہنگاموں کی خبروں نے امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ انڈیا کی کوریج کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اب تک پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے پانچ افراد اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا جبکہ سیکڑوں پولیس اور بی جے پی کارکنان کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر ہندو انتہاء پسند جماعتوں کے کارکنان نے نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کے گھروں کو نذر آتش کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران پولیس انہیں مکمل معاونت فراہم کرتی رہی۔

پیر کو دہلی میں شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر صارفین کے تبصرے سوشل میڈیا پر غالب ہیں۔ انڈین اور پاکستانی ٹائم لائنز پر دہلی ہنگامے، امیت شاہ استعفیٰ دو، دہلی وائیلنس اور دہلی برننگ کے ٹرینڈز نمایاں رہے۔ سوشل میڈیا صارفین جہاں جلانے، تشدد، تصادم اور احتجاج پر گفتگو کرتے رہے، وہیں ان واقعات سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں۔

انڈین ٹیلی ویژن میزبان ساکشی جوشی نے وائرل ہونے والی ایک تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’اگر آپ ایک انڈین ہوتے ہوئے اس تصویر پر درد کے مارے روتے نہیں، متاثر نہیں ہوتے یا خود پر دباؤ محسوس نہیں کرتے تو مجھے کہنے دیں کہ نہ تو آپ انڈین ہیں نہ ہی انسان۔‘ اپنی ٹویٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ ’اگر آپ اس شخص کے مذہب سے قطع نظر اس سے ہمدردی نہیں کرتے تو میں اس کی ذمہ داری آپ کے والدین کی پرورش پر عائد کروں گی۔‘

دہلی پولیس اور فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹس کی رپورٹس میں بھی تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ بتایا گیا ہے۔ انڈین میڈیا ’اے این آئی‘ نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دہلی فائر بریگیڈ کو چند گھنٹوں میں شمال مشرقی دہلی سے آگ لگنے کی 45 شکایات موصول ہوئی۔

سوشل میڈیا پر زیرگردش ویڈیوز میں آگ لگنے اور اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ ویوک رنجن اگنی ہوتری نے آگ اور دھوئیں کے مناظر پر مشتمل ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے ملک شام سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں نئے انڈیا کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن اپنے ہی ملک میں نیا شام مل گیا۔‘

دہلی میں ہنگاموں اور پولیس کے تشدد میں ملوث ہونے کا ذمہ دار وزیرداخلہ کو ٹھہراتے ہوئے استعفی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

جواب میں انڈین حکمراں جماعت بی جے پی کے حامی اروند کجریوال کی پرانی ٹویٹس شیئر کرتے رہے جس میں وہ اس وقت کی وزیراعلیٰ کو جنسی حملے روکنے میں ناکامی کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

پرتشدد مناظر رکھنے والے وائرل ویڈیوز میں ایک ایسی ویڈیوز بھی نمایاں رہی جس میں کچھ زخمی سڑک پر گرے ہوئے ہیں۔ جب کہ قریب موجود پولیس اہلکار ان پر تشدد کرتے ہوئے انڈین قومی ترانہ پڑنے کا مطالبہ کرتے سنے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: