اورنگی ٹاؤن ، پرائیوٹ گاڑیوں میں گھومنے والے مسلح افراد پھر سرگرم

کراچی: شہر قائد کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ایک بار پھر جدید اسلحے سے لیس مسلح افراد لوٹ مار میں سرگرم ہوگئے۔

منگل کی رات تین بجے کے قریب دو ہائی روف میں تقریباً دس مسلح افراد اورنگی ٹاؤن ساڑھے 13 نمبرمیں واقع شاہ خالد کالونی پہنچے اور انہوں نے دو گھروں میں داخل ہوکر لوٹ مار کی۔

جدید اسلحے سے لیس مسلح افراد نے دونوں گھروں کے اہل خانہ کو یرغمال بنایا اور کارروائی کے دوران خواتین سے بدتمیزی جبکہ مردوں پر تشدد بھی کیا گیا۔

نمائندہ ذرائع کو عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح افراد دونوں گھروں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ روپے کیش، پانچ سونے کے کنگن (ڈھائی لاکھ روپے مالیت)، دو سونے کے سیٹ (ڈیڑھ لاکھ روپے) ایک موبائل قیمت 35 ہزار روپے لے اڑے۔

متاثرہ اہل خانہ کے نوجوان نے بتایا کہ مسلح افراد انہیں دھمکا کر گئے ہیں کہ اگر مقدمہ درج کرایا یا مزاحمت کی تو نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے، متاثرہ خاندانوں نے 15 پر واردات کی اطلاع فراہم کردی۔

پاکستان بازار تھانے کے ڈیوٹی افسر سے جب اس بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو اُن کا موبائل بند تھا جس کی وجہ سے پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔

اورنگی ٹاؤن، ماں بہن کی عزت لوٹنے پر کچھ نہ بولو، ورنہ۔۔۔

یاد رہے کہ اورنگی ٹاؤن میں گروہ کی صورت میں مسلح افراد کے لوٹنے کے واقعات اس سے پہلے بھی سامنے آچکے ہیں، دو برس قبل علاقہ مکینوں نے ڈکیتی کی وارداتوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں اصغر علی نامی بزرگ جاں بحق ہوئے تھے۔

بعد ازاں پولیس نے مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں بھی لیا تھا جس کے بعد تمام ملزمان نے عدالت سے ضمانت حاصل کی۔

اورنگی ٹاؤن میں احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ، 6 افراد زخمی

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد ایک بار پھر مسلح گروہ کا گشت شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے اورنگی ٹاؤن کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

اورنگی ٹاؤن مظاہرے سے گرفتار افراد کو جیل بھیج دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں: