اسلام آباد پولیس نے گزشتہ روز عورت مارچ کے شرکا کے خلاف نعرے لگانے، پتھراؤ کرنے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد ایف آئی آر تو درج کی تاہم ان واقعات کو اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
اسلام آباد کے پولیس تھانہ کوہسار میں درج ہونے والی یہ ایف آئی آر محض ’ایمپلی فائر ایکٹ‘ کی خلاف ورزی پر درج کی گئی۔ رپورٹ میں صرف اتنا ذکر موجود ہے کہ مذہبی جماعت کے کارکنان نے عورت مارچ کے شرکا کے خلاف نعرے لگائے اور پولیس کو دھکے دیے جبکہ اس دوران ہونے والے جھگڑے اور عورت مارچ پر پتھراؤ کا ذکر ہی موجود نہیں ہے۔
پولیس کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
ایف آئی آر کے متن میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کچھ علما کا ذکر موجود ہے جن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انہوں نے جائے وقوعہ پر عورت مارچ کے خلاف بغیر اجازت تین سو سے چار سو افراد کو جمع کیا۔ ایف آئی آر میں مذہبی جماعت کے 30 سے 35 ’نامعلوم‘ افراد کے اشتعال میں آ کر قنات اکھاڑنے، چند پولیس والوں کو دھکے دینے اور روڈ بلاک کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال کی طرف موجود ان علما اور کارکنان نے لاؤڈ سپیکر سسٹم پر خواتین کے عالمی دن منانے والوں کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کی نیت سے الفاظ کسے اور مظاہرین کے جذبات ابھارتے رہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ’ان کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے، آپ کا مجمع خلاف قانون ہے، منتشر ہو جائیں لیکن وہ منتشر نہ ہوئے اور اشتعال میں آ گئے۔‘

اسلام آباد میں عورت مارچ پر اس وقت حملہ ہوا جب مارچ ڈی چوک کی جانب بڑھا۔ پریس کلب کے باہر میلوڈی سے سپر مارکیٹ کی طرف جاتی سڑک کی گرین بیلٹ پر قناتیں لگائی گئی تھیں۔ ان کی ایک طرف جامعہ حفصہ کی طالبات جمع تھیں جن کے ساتھ ایک بڑی تعداد لال مسجد سے تعلق رکھنے والی منتظمین اور طالب علموں کی بھی تھی۔
