لاہور: معروف مبلغ مولانا ناصر مدنی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کر کے دعویٰ کیا کہ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے یرغمال بنا کر برہنہ کیا اور ویڈیو ریکارڈ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
مولانا ناصر مدنی نے گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کر کے بتایا کہ انہیں ایک شخص کی کال موصول ہوئی جس نے بتایا کہ وہ مداح ہے اور کھانے پر ملاقات کرنا چاہتا ہے، ہمارا وقت مقرر ہوا اور جب ہم وہاں پہنچے کمرے میں بیٹھے تو وہاں پندرہ سے 20 مسلح افراد آگئے۔
انہوں نے بتایا کہ اُن لوگوں نے میرے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پاس ورڈ لیا، ایڈمن کے نمبرز لیے اور سب کچھ چیک کیا، اُن میں سے چند لوگوں نے میری گاڑی سے اہم کاغذات نکالے مگر اے ٹی ایم اور شناختی کارڈ واپس کردیا۔
اس دوران انہوں نے میرے کپڑے اتارے، مجھے برہنہ کر کے ایک ویڈیو بنوائی اور ہدایت دی کہ بولو تم نے ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کی، جس پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میں اللہ سے اور لڑکی سے معافی مانگتا ہوں، ان لوگوں نے ویڈیو ریکارڈ کرنے کے بعد مجھے رہا کردیا، میں نے اُن سے زندگی کی بھیک مانگی تھی۔
ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان میں کوئی سچ نہیں بول سکتا، انہوں نے مجھے بولا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا یا میڈیا سے بات کی تو وہ مجے لاہور میں قتل کردیں گے، یہاں اندھیر نگری ہے جس کا دل چاہے وہ بزور طاقت برہنہ کر کے ویڈیو بنا سکتا ہے۔ مولانا صاحب نے بتایا کہ مجھے 16 مارچ کی رات 10 بجے اٹھایا گیا اور 17 مارچ کی دوپہر دو بجے چھوڑا، واپسی میں انہوں نے ہمیں پیچھے بٹھایا اور واپس چھوڑا۔
انہوں نے بتایا کہ اُن لوگوں نے میرے سارے چینلز ہیک کرلیے، آئندہ میرے چینل، فیس بک پیج یا کسی بھی اکاؤنٹ (ناصر مدنی آفیشل) سے جو کوئی بھی چیز شیئر ہوگی وہ میری ذمہ داری نہیں ہوگی، ابھی بھی یہ خبر اڑائی گئی کہ میں کرونا سے متاثر ہوگیا ہوں۔
مولانا ناصر مدنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کریں گے، معاملہ کرونا وائرس کے حوالے سے شیئر ہونے والے ویڈیو کلپ سے شروع ہوا، ہم سائبر کرائم اور لاہور کے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں گے اور مقتدر حلقوں سے اپیل کریں گے کہ وہ شرپسندوں کو بے نقاب کر کے کڑی کارروائی کرے۔
https://twitter.com/MurtazaViews/status/1239955180201926656?s=20
ناصر مدنی کی پریس کانفرنس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین نے اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کارروائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
