سوال چنا جواب گندم ، وزیر اعظم کرفیو اور لاک ڈاؤن پر مخمصے کا شکار

اسلام آباد: ایک روز قبل وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کے ساتھ کرونا وائرس کی پیش رفت کے حوالے سے بیٹھک لگائی جس میں انہوں نے اینکر پرسنس اور صحافیوں کی جانب سے پوچھے جانے والے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

اس نشست کے دوران وزیراعظم کی گفتگو سے یہ تاثر سامنے آیا کہ وہ کیا بول رہے ہیں، کیا چاہ رہے ہیں اور کیا چیز اُن کے دماغ میں چل رہی ہے۔

ایک طرف وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کی حمایت کی مگر اگلے ہی سانس میں مخالفت کی اور اسے کرفیو سے تشبہہ دے ڈالی۔ پھر عمران خان نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ سب کرنے کے بعد بھی کوئی کیس سامنے آئے گا تو ہم کیا کریں گے؟۔

صحافیوں نے وزیراعظم کو اٹلی، چین اور دیگر ممالک میں کرونا کی پھیلنے والی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا تو عمران خان نے بولا کہ ٹریلین ڈالر کا بجٹ صحت پر مختص کرنے والے ممالک بھی پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں۔

صحافیوں کے ہر سوال کے جواب میں تقریباً وزیراعظم وہی باتیں دہراتے رہے، ارشاد بھٹی سمیت دیگر صحافیوں نے بالخصوص پنجاب کے اسپتالوں کی حالتِ زار سے آگاہ کیا تو وزیراعظم نے بولا کہ اس کا جواب ڈاکٹر ظفر مرزا، معیشت کا سوال متعلقہ محکمہ، اقدامات کا جواب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین دیں گے۔

وزیراعظم نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر یہ بھی کہا کہ سندھ ہم سے ایک قدم آگے نکل گیا، ملک میں سارے فیصلے میری مرضی سے ہوتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ جو کیا وہ ہمارا ہی ہے۔

رؤف کلاسرا، محمد مالک، ارشاد بھٹی نے اس دوران میر شکیل کی گرفتاری کا معاملہ بھی اٹھایا جس کا وزیراعظم نے جواب دینے سے انکار کیا اور ایک بار پھر جنگ جیو کے مالک کو مافیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم کرونا وائرس کے حوالے سے اقدامات اور مٹینگز میں مصروف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: