افطار پر تکرار، کراچی میں شوہر نے روزے سے پہلے ماں کے ساتھ مل کر بیوی کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی

کراچی کے علاقے شاہ لطیف میں ظالم شوہر اور اُس کی سفاک ماں نے لڑکی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق 25 اپریل کو افطار سے قبل حمیرہ اور اس کے شوہر میں معمولی تکرار ہوئی تو ولی محمد موٹرسائیکل سے پٹررول نکال کر لایا اور حمیرہ کو گھسیٹتا ہوا باورچی خانے میں لے گیا جہاں پر اس کی ساس کے کہنے پر حمیرہ کو آگ لگا دی۔ اہل خانہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہونے والی معاشی تنگ دوستی کے بعد دونوں میں تکرار رہتی تھی۔
متاثرہ لڑکی کے والد غلام ربانی کو تمام کہانی واقعہ کی عینی شاہد اس کی بیٹی عارفہ نے بتائی جوکہ ولی محمد کے بھائی نادر کی بیوی ہے۔ عارفہ کے مطابق اس کی ساس نے اسے کمرے میں بند کر کے باندھ دیا تھا، غلام ربانی کو بیٹی کے جلنے کی اطلاع ملی تو وہ سول اسپتال کے برنس وارڈ پہنچا جہاں پر ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ حمیرہ کا جسم 90 فیصد تک جل چکا ہے۔
واقعہ کا مقدمہ پولیس نے شاہ لطیف تھانے میں درج کر کے حمیرہ کی ساس کو گرفتار کر لیا ہے تاہم شوہر ولی محمد تاحال مفرور ہے۔ حمیرہ کو ولی محمد سے شادی کیے ہوئے 3سال ہو گئے تھے لیکن ان کی اولاد کوئی نہیں تھی۔ متاثرہ لڑکی کے والد کے مطابق ساس کی وجہ سے حمیرہ کا شوہر سے آئے روز جھگڑا ہوتا تھا۔
یاد رہے کہ سندھ میں 21 مارچ سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا جس کے بعد یومیہ اجرت کمانے والے یا مزدور طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لاک ڈاؤن کے بعد کئی گھروں میں نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے، جن فلاحی تنظیموں کی جانب سے راشن تقسیم کیا جارہا ہے وہ سفید پوشی کو برقرار نہیں رکھتی اور ایک تھیلے کے لیے عزت نفس کو مجروح کرتی ہیں۔
