سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی چھٹی برسی، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کو چھ برس کا عرصہ بیت گیا، تحریک منہاج القرآن کی جانب سے آج شہدا کی برسی منائی جارہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر #17thJuneBlackDay اس وقت پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے جس کو استعمال کر کے صارفین لواحقین کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے انصاف کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری دو بار احتجاج کرچکے ہیں اور وہ ہر بار یہی بات کہہ کر اپنا احتجاج ختم کرتے رہے ہیں کہ اُن کی اعلیٰ حکام سے بات ہوگئی اور جلد ہی متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
ماضی میں تحریک منہاج القرآن یہ الزام عائد کرتی تھی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو بچانے کے لیے واقعے کے حقائق چھپا رہی ہیں مگر تحریک انصاف کی حکومت جس نے دھرنے میں نہ صرف پی اے ٹی کا ساتھ دیا اور وعدہ کیا تھا کہ حکومت حاصل ہونے کے بعد قاتلوں کو سزا سنائی جائے گی وہ بھی دو سال سے اس معاملے پر خاموش ہے۔
EXCLUSIVE LIVE TRANSMISSION
6th Annual Commemoration of #ModelTownMassacre Martyrs
Wednesday 17th June 2020
6:00PM (UK Time) | 10:00PM (PAK Time)
Only on https://t.co/fXp8Ezn0fR#17thJuneBlackDay pic.twitter.com/Ye0Xf0o1xJ— PAT (@PATofficialPK) June 17, 2020
واقعہ تھا کیا اور اس کا پس منظر کیا تھا؟
جون کی 16 تاریخ کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے کینیڈا سے اپنے خطاب میں حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر انھوں نے 23 جون ان کی آمد پر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی اور انھیں کچھ ہوا تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے۔
علامہ طاہر القادری 2014 میں کچھ عرصے سے محمد نواز شریف کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور انھیں اس وقت تک پاکستان مسلم لیگ ق اور عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید کی جانب سے حمایت کے پیغام مل گئے تھے۔
#ModelTownMassacre: Central team of Minhaj-ul-Quran Women League visited the graves of Shaheed Tanzila and Shaheed Shazia along with their family members earlier today. #17thJuneBlackDay pic.twitter.com/JLGUpLw2up
— Minhaj-ul-Quran Women League (@MinhajSisMWL) June 17, 2020
اگلے روز پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں علامہ طاہر القادری کے ادارے منہاج القرآن کے دفاتر کے باہر لگی ہوئی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس نے منہاج القرآن کے ممبران سے کہا کہ وہ ان رکاوٹوں کو ختم کریں جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کے وہ غیر قانونی ہیں۔
پولیس کی کاروائی کے جواب میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے کہا کہ یہ رکاوٹیں چار سال قبل قانونی طور پر لگائی گئی ہیں جب ان کے سربراہ نے ماضی میں طالبان کے خلاف بیانات دیے تھے۔
اس کے باوجود پولیس نے بلڈوزروں کی مدد سے کاروائی شروع کر دی اور جس کے بعد فریقین میں جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔
ملزم کون ہیں، الزامات کیا ہیں اور ملزمان کا مؤقف کیا ہے؟
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں 115 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جج اعجاز حسن اعوان نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت نے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار سمیت 115 ملزمان پر فرد جرم عائد کی، تاہم تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔
A re-investigation of the MT tragedy was necessary to bring the masterminds of the MT tragedy to justice,to bring the real facts to light and to reach the real culprits as the earlier investigation by the JIT was contrary to the facts.#17thJuneBlackDay pic.twitter.com/s9o1cj8V1h
— 𝘼𝙍𝙄𝙁 𝙌𝘼𝙈𝘼𝙍 (@AqMkw) June 17, 2020
دوران سماعت عدالت نے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر انھیں پیش کریں۔
عمران خان صاحب کیا یہ سارے وعدے اور دعوے جھوٹے تھے؟؟؟#17thJuneBlackDay pic.twitter.com/pFi6RX9xJa
— Bushra Inqlabi (@BushraInqlabi) June 17, 2020
اس موقع پر عدالت نے غیر حاضر تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، تاکہ ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا عمل مکمل ہو سکے۔
