Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی چھٹی برسی، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ | زرائع نیوز

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی چھٹی برسی، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی چھٹی برسی، سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ

 

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن کو چھ برس کا عرصہ بیت گیا، تحریک منہاج القرآن کی جانب سے آج شہدا کی برسی منائی جارہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر #17thJuneBlackDay اس وقت پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہے جس کو استعمال کر کے صارفین لواحقین کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کے انصاف کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری دو بار احتجاج کرچکے ہیں اور وہ ہر بار یہی بات کہہ کر اپنا احتجاج ختم کرتے رہے ہیں کہ اُن کی اعلیٰ حکام سے بات ہوگئی اور جلد ہی متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

ماضی میں تحریک منہاج القرآن یہ الزام عائد کرتی تھی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو بچانے کے لیے واقعے کے حقائق چھپا رہی ہیں مگر تحریک انصاف کی حکومت جس نے دھرنے میں نہ صرف پی اے ٹی کا ساتھ دیا اور وعدہ کیا تھا کہ حکومت حاصل ہونے کے بعد قاتلوں کو سزا سنائی جائے گی وہ بھی دو سال سے اس معاملے پر خاموش ہے۔

واقعہ تھا کیا اور اس کا پس منظر کیا تھا؟

جون کی 16 تاریخ کو پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے کینیڈا سے اپنے خطاب میں حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر انھوں نے 23 جون ان کی آمد پر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی اور انھیں کچھ ہوا تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے۔

علامہ طاہر القادری 2014 میں کچھ عرصے سے محمد نواز شریف کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور انھیں اس وقت تک پاکستان مسلم لیگ ق اور عوامی مسلم لیگ کے قائد شیخ رشید کی جانب سے حمایت کے پیغام مل گئے تھے۔

اگلے روز پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں علامہ طاہر القادری کے ادارے منہاج القرآن کے دفاتر کے باہر لگی ہوئی رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس نے منہاج القرآن کے ممبران سے کہا کہ وہ ان رکاوٹوں کو ختم کریں جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کے وہ غیر قانونی ہیں۔

پولیس کی کاروائی کے جواب میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے کہا کہ یہ رکاوٹیں چار سال قبل قانونی طور پر لگائی گئی ہیں جب ان کے سربراہ نے ماضی میں طالبان کے خلاف بیانات دیے تھے۔

اس کے باوجود پولیس نے بلڈوزروں کی مدد سے کاروائی شروع کر دی اور جس کے بعد فریقین میں جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔

ملزم کون ہیں، الزامات کیا ہیں اور ملزمان کا مؤقف کیا ہے؟

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں 115 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جج اعجاز حسن اعوان نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت نے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار سمیت 115 ملزمان پر فرد جرم عائد کی، تاہم تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا۔

دوران سماعت عدالت نے ڈی آئی جی رانا عبدالجبار کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر انھیں پیش کریں۔

اس موقع پر عدالت نے غیر حاضر تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا، تاکہ ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا عمل مکمل ہو سکے۔