صحت یاب ہوجائیں‌تو پلازمہ عطیہ کریں، طارق عزیز کے آخری الفاظ

صحت یاب ہوجائیں‌تو پلازمہ عطیہ کریں، طارق عزیز کے آخری الفاظ

لاہور: معروف اداکار ، میزبان، ادیب اور  شاعر  طارق عزیز حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے، اُن کے صاحبزادے نے والد کی موت کی تصدیق کردی۔

طارق عزیز نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ‘نیلام گھر’ نے طارق عزیز کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا، بعد ازاں انہوں نے مختلف پروگراموں میں میزبانی کے فرائض انجام دیے۔

گرج دار اور کڑک آواز کے مالک طارق عزیز کو حکومت پاکستان نے 1992 میں تمغہ حسن برائے کارکردگی سے نوازا، انہوں نے کئی فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جبکہ وہ 1997 سے 1999 تک رکن قومی اسمبلی بھی رہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر طارق عزیز نے ٹویٹ کر کے بتایا تھا کہ ’ یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے،رواں دواں زندگی رُک گئی ہے، کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی، نجانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے، ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آرہی‘۔

انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں کلمہ لکھا اور اگلے ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر آپ اس وباء میں موت کے منہ سے بچ کر نئی زندگی پا چکے ہیں تو اپنی اس نئی ملنے والی زندگی کا صدقہ اپنا پلازما عطیہ کر کے اللہ کے حضور میں بخشش کے امید وار بنیئے اس پلازما کو بیچ کر اگر آپ چند ٹکے کما بھی لیں گے تو اس حرام کا برا خمیازہ بھی بگھتنا پڑ سکتا ہے۔ وباء موجود ہے‘۔

طارق عزیز کا انتقال دکھ کا لمحہ ہے: اداکار توقیر

اداکار توقیر ناصر کا کہنا ہے کہ طارق عزیز کا انتقال  دکھ کا لمحہ ہے، طارق عزیز  بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔

انہوں نے کہا کہ طارق عزیز الفاظ کی ادائیگی میرٹ پر کرتے تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ہر میدان میں منوایا، نیلام گھر سے طارق عزیز نے تین نسلوں تک آگاہی پہنچائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: