Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
نوجوانون‌ کے نام مرحوم معین اختر کا آخری انٹرویو | زرائع نیوز

نوجوانون‌ کے نام مرحوم معین اختر کا آخری انٹرویو

کراچی سے تعلق رکھنے والی مزاحیہ اداکار معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے، اُن کے برجستہ جملے آج بھی ہر زبانِ زد عام ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  اپریل 2011 کو معین اختر دل کا دورہ پڑنے سے اچانک انتقال کرگئے تھے، اُن کے نمکین، کرارے اور برجستہ جملے 8 برس بعد بھی مداحوں کو محظوظ کرتے ہیں۔

بتاریخ 24 دسمبر 1950 کو پیدا ہونے والے ور اسٹائل فنکار نے میزبانی، اداکاری، کامیڈی، فلم پروڈکشن، ڈائریکشن اور گائیکی کے میدان میں منفرد مقام حاصل کیا۔ معین اختر نے ٹی وی پر 6 ستمبر 1966 کو پہلا پروگرام کرکے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔

انور مقصود کے ساتھ اُن کا ففٹی ففٹی ٹاک شو بہت مقبول ہوا جس میں معین اختر تمام ہی کردار بخوبی نبھاتے تھے، ناظرین کو دوبارہ ایسا پروگرام کبھی دیکھنے کو نہیں ملا کہ جس میں سنجیدگی پیغام سمیت تمام چیزیں مختصر وقت میں فراہم کی جائیں۔

معین اختر کا خاندان قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں قیام پذیر ہوا اور پہلے لیاقت آباد پھر ناظم آباد میں مستقل سکونت اختیار کی، انہوں نے اپنی تعلیم کراچی سے ہی حاصل اور مکمل کی، دوران طالب علمی معین اختر غیر نصابی اور فن و ثقافت کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

معین اختر کو انگریزی، بنگالی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور اردو زبان پر مکمل عبور حاصل تھا۔ انہوں نے شوبز کی دنیا میں نئی نسل کے لیے مشعل راہ تھے، ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ’حسن کارکردگی’ اور ‘ستارہ امتیاز’ کے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ معین اختر 22 اپریل 2011 کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تھے۔