پشاور کے علاقے ماشو خیل میں پولیو کے قطرے پینے کے بعد 40 سے زائد بچوں کی حالت بگڑ گئی،مشتعل علاقہ مکینوں نے نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور بنیادی مرکز صحت کی عمارت کو آگ لگادی۔
اطلاعات کے مطابق پشاور کے علاقے ماشو خیل اسپتال میں علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا اور اسپتال میں شدید توڑ پھوڑ کی، مشتعل افراد نے اسپتال کا مرکزی دروازہ توڑ کر عمارت کو نذر آتش کردیا۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیو کے قطرے پینے والے بچوں کی طبیعت خراب ہوئی، انہیں قے اور سر چکرانے کی شکایت تھی البتہ اُن کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
کوآرڈینیٹر ای پی آئی کامران آفریدی کا جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیو ویکسین سے ری ایکشن ہو ہی نہیں سکتا، ویکسین زائد المعیاد بھی نہیں، تمام بچوں کی حالت نارمل ہے۔ کامران آفریدی نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹرز بھی اس نتیجے پر پہنچے کہ بچوں کی طبیعت پولیو ویکسین کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے خراب ہوئی۔
قبل ازیں اطلاعات موصول ہوئیں تھیں کہ پشاور میں مبینہ پولیو ویکسین سے 25 طلبا کی حالت بگڑگئی جن کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ،پولیس کے مطابق واقعہ بڈھ بیڑ کے نجی سکول میں پیش آیا۔
