نام نہاد تجزیہ نگار اس بار رنگے ہاتھوں‌ پکڑا گیا

اثاثے چوری کرنے والا نام نہاد تجزیہ نگار اس بار رنگے ہاتھوں‌ پکڑا گیا

کراچی: سید محبوب احمدچشتی کا گزشتہ روز مورخہ 30جون 2020ء بروزمنگل کو روزنامہ اردو بلیٹن کراچی میں ہمیشہ کی طرح شائع ہوا جسے لیاقت خان دشتی نے کاپی کر کے پورا کا پورا کالم سماعت اخبار میں اپنے نام اور تصویر کے ساتھ شائع کروایا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹ) اخلاقیات سے گری ہوئی ہوئی حرکت کرتے ہوئے نام نہاد تجزیہ نگار (لیاقت خان دشتی) نے سینئر صحافی ،کالم تجزیہ نگار ،بلاگر ،چئیرمین نیوز ایکشن کمیٹی پاکستان اور کے یوجے نظریاتی کے ترجمان سید محبوب احمدچشتی کا گزشتہ روز مورخہ 30جون 2020ء بروزمنگل کو روزنامہ اردو بلیٹن کراچی میں شائع ہوا۔

اگلے ہی روز یعنی بدھ یکم جولائی کو سماعت اخبار میں یہ کالم لیاقت خان دشتی کے نام اور تصویر کے ساتھ گزشتہ شائع کیا گیا، حیران کن طور پر مدیر نے بھی اس آرٹیکل کی جانچ پڑتال نہیں کی جس سے اُن کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہورہا ہے۔

لکھنے کی صلاحیتوں سے محروم سستی شہرت حاصل کرنے کے لئیے اس قسم کی حرکتیں کرکے ایسے عناصر صحافتی اقدار کو پامال کرتی ہیں، سید محبوب احمد چشتی اور روزنامہ اردو بلیٹن نے تحریر چوری کرنے کے عمل کو قابل مذمت قرار دیا اور کہاکہ اس طرح کے اقدامات اخبارات کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے عناصر کے متعلق  اخبارات کو لکھنے سے پہلے انکی قابلیت کا معلوم ہونا چاہیئے تاکہ اس طرح کے عناصر اخبارات ومیگزین کی بدنامی کاباعث نہ بن سکیں۔

دوسری جانب سید محبوب احمد چشتی نے مذکورہ صحافی اور اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا، اس ضمن میں جلد ہی مشاورت کے بعد عدالت سے رجوع کیا جائے گا جہاں لیاقت خان دشتی اور سماعت اخبار کے مدیر کو عدالت کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: