تحریک انصاف کے کارکنان کا کراچی قیادت پر سنگین الزام

تحریک انصاف کو مفادپرستوں نے ہائی جیک کرلیاہے، شاہد رند

غیر آئینی ریجنل سیٹ اپ کو فوری طور پر ختم کرکے 2019 کے پارٹی آئین کے مطابق 70% بانی اراکین کو عہدے دئے جائے

الیکشن میں ٹکٹوں کے بعد تنظیمی معاملات چلانے کیلئے رشتے داروں دوستوں احباب کو پارٹی عہدے بانٹنا شروع کردئے،بانی رکن

وزیراعظم عمران خان، اعظم خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دئے جوہمارے تحفظات اور صحیح حقائق ان تک پہنچا سکے، مطالبہ

کراچی (رپورٹ:)حلیم عادل شیخ کیخلاف نیب کی انکوائری نے تحریک انصاف سندھ میں اندرون خانہ رونما ہونے والی سرد جنگ نے آپس میں اختلافات اور جھگڑوں کو واضح کر دیا ہے جبکہ نظریاتی کارکنان کی دو ہفتوں سے جاری احتجاجی کیمپ بھی سندھ کی صوبائی قیادت کیلئے درد سر بنا ہواہے ان حالات پر قابو پانے میں سندھ کی قیادت ناکام نظر آتی ہے، اس حوالے سے لاڑکانہ کے نائب صدر بانی و نظریاتی رکن شاہد رند کا کہنا ہیکہ سندھ کی سیاست پر حلیم عادل شیخ حاوی ہے اور سندھ کے نظریاتی رہنما ؤں کو دیوار سے لگایاجاچکاہے تحریک انصاف سندھ میں پھوٹ الیکشن 2018میں ٹکٹوں کی بندر بانٹ کی وجہ سے پڑی جب اثرو رسوخ رکھنے والے غیر نظریاتی لو گوں کو سندھ کی قیادت نے ٹکٹس گھر سے بلا کردئے جب سے اب تک یہ گروپ بندی چلی آرہی ہے نظریاتی کارکنا ن اس وقت اسلئے خاموش رہے کہ ہمارا خان وزیراعظم بنے گا تو سارے مسائل حل اہوجائینگے، ہم پارٹی کے مقامی عہدوں پر آجائے گے اور اس طرح باآسانی عوام کے مسائل حل کرواسکے گے مگر اس کے بعد تحریک انصاف اقربا پروری کی ایک مثال بن گئی اور نئے آنے والو ں نے پارٹی کو ہائی جیک کرلیا اور دو سال سے زائد عرصہ گزرجانے کے بعد بھی یہ نام نہاد تحریکی ساتھی اپنے ہی ہی ساتھیوں کیلئے کچھ نہ کرسکے اور ہر سیاسی لیڈرنے اپنی الگ دکان شروع کردی، ٹکٹوں کے بعد تنظیمی معاملات چلانے کیلئے ان فصلی بٹیروں نے اپنے ہی رشتے داروں اور دوستوں احباب کو پارٹی عہدے بانٹنا شروع کردئے جسکی وجہ سے تمام پرانے و نظریاتی رہنما خاموش ہوکر گھر بیٹھ گئے اور اس طرح دوسرے پارٹی سے آئے ہوئے اور مفاد پرست ٹولے کو اپنی من مانیاں کرنے کا موقع مل گیا اور مفاد پرستوں نے اپنا کام دکھا دیا، حلیم عادل شیخ نے اپنے بھائی نعیم عادل شیخ کو لیبر ونگ کراچی کا صدر لگو ادایا، اشرف جبار قریشی جن پر زمینوں پر قبضے اور چیک باوئنس کیسزپر ایف آئی آر درج ہیں ان کے بھائی علی جان قریشی کو ویلفیئر ونگ کراچی کا صدر بنا دیا گیا ہے جبکہ ہنس مسرور جو کہ اشرف جبار قریشی کا دوست ہے کافی عرصے تک پارٹی میں غیر فعل رہا اورخان صاحب کے وزیراعظم بننے کے فوری بعد اشرف جبار نے ان کو متحرک کردیا اور پارٹی کے پرانے نظریاتی اور متحرک ساتھی کو سائیڈلائن لگا کر ہنس مسرور کو ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری تعینات کروادیا،ایسے نظریاتی کارکن جو خان کے کہنے پر باہر ملک سے اپنا سب کچھ خان کی محبت میں چھوڑ کر دوبارہ پاکستان آئے آج ان نظریاتی کارکنان کو مفاد پرست ٹولے نے سائیڈلائن کردیا، عمران اسماعیل بھائی کے عدنان اسماعیل بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مصروف عمل ہیں اور انہوں نے حلیم عادل شیخ کے ساتھ ملکر سپر ہائی وے پر 400ایکٹر سے زائد زمین پر ایک منصوبہ شروع کیاہے۔ ذرائع کے مطابق حنید لاکھانی جب پارٹی میں متحرک ہوئے تو بہت سے لوگوں کو پریشانی لاحق ہوئی کہ یہ ان کو ریپلیس نہ کردے کیونکہ حنید لاکھانی ایک اچھے اور سلجھے ہوئے ماحول سے آئے تھے اسی خوف کی وجہ سے اس وقت کے رہنماؤں نے ایک دفعہ حنید لاکھانی کو انصاف ہاؤس سے بھی باہر نکلوا دیا تھا اسکے بعد حنید لاکھانی پر حلیم عادل شیخ نے دست شفقت رکھا اور بہت اچھی طریقے سے حنید لاکھانی کواستعمال کرناشروع کیااور اب تک استعمال کررہاہے جبکہ اپنا بندہ خاص جاوید اعوان کو حنید لاکھانی کا میڈیا کوآرڈئنیٹر لگوادیا۔ نظریاتی و بانی رکن یوسٖف ڈالیا نے کہا کہ کراچی کے نام نہاد رہنما کہتے ہیکہ میں نے تحریک انصاف چھوڑ دی تھی ایسا کچھ نہیں ہے میں نے کبھی بھی خانصاحب کا ساتھ نہیں چھوڑا اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو مجھے دکھائے، پارٹی تو کیا میں سیاست ہی چھوڑ دونگا، انہوں نے مزید بتایاکہ جب کراچی میں خانصاحب آتے تھے تو میراقد کاٹھ دیکھ کر عارف علوی اور عمران اسماعیل نے مجھے خان کا گارڈ بنایا تھا اور خان کے ساتھ بطور گارڈ رہنے کی وجہ سے میں ان سب کی کارستانیاں جانتا ہوں مگر بولتا نہیں مگر یہ لوگ اب میرے صبرکو مزید نہ آزمائے۔ کراچی پریس کلب میں دو ہفتے سے جاری دھرنے کی قیادت لاڑکانہ کے نائب صدر بانی و نظریاتی رکن شاہد رندکررہے ہیں،کراچی سے نظریاتی و بانی رکن یوسٖف ڈالیا، حیدرآباد سے تسنیم زہرہ، فضاء خان شیخ اور سائرہ علی میر ملاح کے پورے سندھ سے نظریاتی کارکنا ن احتجاجی کیمپ میں شریک ہے، نظریاتی کارکنا ن کا کہنا ہیکہ پاکستان تحریک انصاف کا 2019 کا آئین موجود ہے جس میں ڈویژن سے نیچے تنظیم کا ذکر ہے جبکہ کہیں بھی ریجن کا نام نہیں نا کوئی اختیار اس نظام کے تحت نظریاتی کارکنا ن کو دیورا سے لگادیا گیا اورپرانے نظام کے تحت 70% پرانے لوگوں کی نمائندگی کو یقینی طور پر پارٹی کا حصہ بنانا لازم تھامگر اس ریجنل نظام کے بعد لوٹوں اور مفاد پرستوں کو 9 اور کہیں 10 ڈسٹرکٹ پلیٹ میں رکھ کر دئے گئے ہیں یہی وجہ ہیکہ نظریاتی کارکنا ن کا مطالبہ ہیکہ یہ غیر آئینی ریجنل سیٹ اپ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور 2019 کے پارٹی آئین کے مطابق پارٹی کی تنظیم سازی میں 70% بانی، پرانے اور نظریاتی ورکرز کو اپنے علاقوں میں پارٹی کی بھرپور نمائندگی کو شامل کیا جائے اورکراچی ڈویژن کی صدارت فوری طور پر خرم شیر زمان سے لے کر پارٹی کے نظریاتی ورکرز کے حوالے کی جائے تاکہ کراچی کے مسائل پر توجہ دی جائے اور دارالحکومت سمیت پورے سندھ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔نظریاتی کارکنا ن کاوزیراعظم عمران خان سے مطالبہ ہیکہ وہ اعظم خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دئے جو ہمارے تحفظات اور شکایات کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور آپ تک صحیح حقائق پہنچ سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں: