مودی سے مدد کا متنازعہ بیان، بانی ایم کیو ایم نے صفائی بھی دے ڈالی

لندن: ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا مودی سے مدد کا مبینہ پیغام منظر عام پر آگیا، بانی ایم کیو ایم نے مودی سے کہا کہ کراچی کے مہاجروں کی مدد کریں، بانی ایم کیو ایم نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو دوبارہ سُن کر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق بانی ایم کیو ایم کا ایک بار پھر متنازعہ بیان آگیا ہے جسے ہندوستان کے نامور نیوز چینل کی ویب سائٹ نے بھی نشر کیا ہے، لندن سے جاری کیے جانے والے یوم پاکستان کے ایک گھنٹے سے قبل پیغام میں بانی ایم کیو ایم نے 25 منٹ کے بعد مودی سے مبینہ مدد مانگی۔

بانی ایم کیو ایم نے بھارتی وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ وہ بلوچستان کے بلوچوں کی مدد تو کرتے ہیں مگر کراچی کے مہاجر جنہوں نے ہندوستان چھوڑا اُن کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھائی، باوجود اس کے کہ انہیں گزشتہ 30 برس سے پاکستان کی طاقتور ایجنسیاں تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

بعد ازاں ایم کیو ایم پاکستان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بانی ایم کیو ایم کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ریاست سے مطالبہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب بانی ایم کیو ایم نے 25 مارچ کی صبح ایک اور بیان جاری کیا جس میں انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ستار، نسرین جلیل نے ماضی میں عالمی لوگوں سے ملاقاتیں کر کے مہاجروں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا اور میں نے بھی اقوام متحدہ، امریکا اور برطانوی حکومتوں کو مظالم کے خلاف خط لکھے۔

بانی ایم کیو ایم نے شکوہ کیا کہ اتنے بڑے پروپیگنڈے کے باوجود رابطہ کمیٹی لندن نے میری بات کو اہمیت نہ دی اور کوئی مذمتی بیان جاری نہیں کیا، چاہیے کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے میں کام کرتا رہوں گا اس لیے یہ بیان ریکارڈ کر کے آپ تک بھیج رہا ہوں۔

الطاف حسین نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت، رابطہ کمیٹی لندن پر سخت الفاظ میں تنقید بھی کی اور کہا کہ اگر کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا تو میں اکیلا ہی کام کرتا رہوں گا۔

یاد رہےماضی میں بے نظیر بھٹو ، نوازشریف کے صاحبزادے سمیت دیگر سیاستدانوں نےماضی میں امریکا اور بھارت سے مدد مانگی تھی۔

واضح رہے بانی ایم کیو ایم ماضی میں کارکنان پر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھاتے رہے ہیں اور انہوں نے سابق اور موجودہ آرمی چیف سمیت مقتدر حلقوں کو خط بھی لکھا ہے اور اُن سے مطالبہ بھی کیا کہ مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: