حیدرآباد:‌ الطاف حسین یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

کراچی: سندھ کابینہ نے کراچی اور حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی کے نام پر قائم کی جانے والی الطاف حسین یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اب ان یونیورسٹیوں کا نام فاطمہ جناح یونیورسٹی رکھا جائے گا، جس کی سندھ کابینہ نے منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں سندھ اسمبلی نے کراچی اور حیدر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے بانی الطاف حسین کے نام سے ایک، ایک یونیورسٹی کے قیام کے بل کی منظوری دی تھی۔

ان نجی یونیورسٹیوں کو ملک ریاض کی والدہ کے نام سے تشکیل دیئے جانے والے اختر سلطانہ میموریل ٹرسٹ کے تحت چلایا جائے گا اور بورڈ آف گورنرز میں ٹرسٹ کے چار نمائندے اور پانچ نامور شخصیات شامل ہوں گی۔

تاہم گذشتہ برس 22 اگست کو بانی ایم کیو ایم کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد سندھ کابینہ نے ان یونیورسٹیوں کے نام کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

سندھ کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں ان یونیورسٹیوں کا نام تبدیل کرکے فاطمہ جناح یونیورسٹی کرنے پر اتفاق کیا گیا، جسے دوبارہ سندھ اسمبلی بھیجا جائے گا اور اس پر اراکین سے منظوری لی جائے گی۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت سکندر مہیندرو نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کے نام کی تجویز مشترکہ تھی۔

انھوں نے کہا کہ ‘الطاف حسین نے جو بیان دیئے تھے، ان کے بعد میرے خیال میں ایسے آدمی کے نام ہر اگر یونیورسٹی بنائی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی اپنا فرض ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر رہے’۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ‘ہمارے ضمیر نے ہم پر دباؤ ڈالا کہ پاکستان کے خلاف بات کرنے والے شخص کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے’۔

سکندر مہیندرو نے مزید بتایا کہ ‘یہ ترمیم حکومت کی طرف سے کی جارہی ہے، اب وہ لوگ (ایم کیو ایم ارکان) کیا ردعمل دیں گے، یہ بعد میں پتہ چلے گا’۔

بشکریہ ڈان نیوز

اپنا تبصرہ بھیجیں: