Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
آسٹریلیا میں‌ مقیم پاکستانی بلاگر قطیبہ محمود پر حملہ کس نے اور کیوں کیا؟ حقائق جانیے | زرائع نیوز

آسٹریلیا میں‌ مقیم پاکستانی بلاگر قطیبہ محمود پر حملہ کس نے اور کیوں کیا؟ حقائق جانیے

قطیبہ محمود پر حملہ کس نے اور کیوں کیا؟ حقائق جانیے

سڈنی میں مقیم کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نوجوان بلاگر قطیبہ محمود پر ہفتے کے روز حملہ ہوا، جس میں وہ شدید زخمی ہوکر اسپتال پہنچ گئے۔

اس حملے کے بارے میں ہفتے کے روز سے ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر خبریں سامنا آنا شروع ہوگئیں تھیں، بعد ازاں قطیبہ محمود کی زخمی حالت میں اسپتال میں موجود تصویر بھی سامنے آئی۔

قطیبہ محمود کو یوں زخمی حالت میں دیکھ کر اُن کے بارے میں تمام ہی لوگ فکر مند ہوئے اور انہوں نے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، اس کے ساتھ ہی سب نے جاننے کی کوشش کی کہ یہ حملہ کیوں اور کس وجہ سے ہوا۔

ذرائع نیوز نے قطیبہ محمود پر ہونے والے حملے کے بعد مختلف لوگوں سے رابطے کیے جس کے بعد بالآخر ہم وہ وجہ اور قطیبہ کی طبیعت کے حوالے سے حقائق جاننے میں کامیاب رہے۔

اُس روز کیا ہوا؟

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ قطیبہ محمود اپنے گھریلو ساتھی علی احمد کے ساتھ سڈنی کے مغربی علاقے میں قائم پنچ بول کی پارکنگ میں ہفتے کی شام ساڑھے چار بجے پہنچے۔ نوجوان بلاگر کی رہائش اسی عمارت کے فلیٹ میں ہے۔

پارکنگ میں پہنچنے کے بعد دونوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ بیس مینٹ میں ایک شخص ہاتھ میں ہتھوڑا لیے کھڑا ہے۔

گاڑی سے اترتے ہی وہ شخص قطیبہ کے قریب آیا اور اُس نے احمد کے منہ پر اُس وقت مکا مارا، جب اُس نے ویڈیو بنانا شروع کی۔ بعد ازاں اُس نے تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے ٹول کو اٹھایا اور قطیبہ کی گاڑی پر اسے زور سے مارا۔

اس دوران احمد ویڈیو بناتا رہا اور گھر میں داخل ہوا تو مذکورہ شخص نے قطیبہ کے ہاتھ پر زور سے راڈ ماری، یہ راڈ مارنے کے بعد وہ شخص زور زور سے چیخنے لگا۔ وہاں پر گاڑی کے قریب ایک لڑکی بھی موجود تھی، جسے اُس شخص نے کچھ نہ کہا البتہ وہ ڈری اور سہمی کھڑی ہوئی تھی۔

بات یہ بھی سامنے آئی کہ احمد کے منہ پر مکا مارنے کے بعد قطیبہ نے دوستی کا حق نبھاتے ہوئے معاملے کو ختم کرانے کی کوشش کی اور پھر خود اس میں کود گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سڈنی پولیس نے جائے وقوعہ پہنچنے کے بعد قطیبہ کو اسپتال منتقل کیا، جبکہ 43 سالہ مقامی شخص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا۔

پولیس کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور دکاندار ہے، مبینہ طور پر احمد اور اُس شخص کے درمیان تکرار ہوئی، جس نے حملہ کیا تو احمد اور ساتھی اُس سے بچنے کے لیے سیڑھیوں کے پاس جا کر چھپ گئے۔

پولیس کے مطابق قطیبہ محمود کے بازر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، جس کا ڈاکٹرز نے آپریشن مکمل کرلیا۔ مذکورہ ملزم کو اتوار کے روزعدالت میں پیش کیا گیا جہاں اُس نے اپنے اوپر عائد ہونے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے سب کچھ اپنے دفاع میں کیا۔

عدالت نے دس ہزار ڈالرز کے عوض ملزم کو ضمانت پر رہا کردیا۔

قطیبہ محمود نے بتایا کہ ’میرے بازو سے خون بہہ رہا تھا اور مجھے بالکل بھی احساس نہیں تھا، میں بالکل ہوش کھو گیا تھا، میرا خون بہت زیادہ ضائع ہوا ہے‘۔

اس حملے کے بعد قطیبہ محمود بہت زیادہ خوفزدہ ہیں اور وہ اسی خوف کے ساتھ واپس اپنے گھر پر آگئے ہیں۔ عدالت نے حملہ آور پڑوسی کو حکم دیا کہ وہ کمپلیکس سے 100 میٹر دو منتقل ہوجائے۔