مصطفیٰ کمال کا دھرنا، کرامت کا منتظر

پاک سرزمین پارٹی نے کراچی کے مسائل کو اجاگر اور انہیں حل کرنے کے لیے گزشتہ 13 روز سے کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے، ابھی تک دو بار پی پی کا وفد مذاکرات کے لیے آیا تاہم وہ ناکام رہے۔

مصطفیٰ کمال کا دعویٰ تھا کہ کراچی کے عوام اُن کے ساتھ ہیں اور وہ عوام کو جس بات کے لیے کال دیں گے وہ اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ پاک سرزمین پارٹی بالخصوص کراچی اور بالعموم پورے ملک کی نمائندہ جماعت بن کر تیزی سے ابھر رہی ہے۔

ایک سال اور ایک ماہ کے دوران پی ایس پی کو ایک بڑی کامیابی ملی اور وہ یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے گمشدہ ، لاپتہ کارکنان باحفاظت خیابانِ سحر پہنچے اور جو لڑکے چھپتے پھرتے تھے وہ اب اپنے گھروں پر سونے لگے ہیں بلکہ سکون کی زندگی بسر کررہے ہیں۔

کراچی آپریشن کے دوران سادہ لباس لوگ بھی متحرک ہوئے اور انہوں نے کئی لڑکے غائب کیے، جس پر کافی شور شرابا، احتجاج، ہڑتالیں، پریس کانفرنس وغیر منعقد کی گئی تاہم 3 مارچ 2016 ایسے خاندانوں کے لیے اچھی نوید ثابت ہوئی جب مصطفیٰ کمال کراچی تشریف لائے اور لاپتہ لوگوں کے ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

دو لوگوں سے شروع ہونے والی جماعت سے کئی رکن اسمبلی متاثر بھی ہوئے اور انہوں نے پریس کانفرنس کر کے پاک سرزمین پارٹی کے جھنڈے تلے سیاسی جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔

سب سے پہلے جانے والے ڈاکٹر صغیر اور افتخار عالم تھے، اُس کے بعد بلقیس مختار، آصف حسنین، دلاور قریشی، ارتضیٰ فاروق اور دیگر نے شمولیت اختیار کی، ان میں سے کچھ ایسے تھے جو مطلوب تھے تاہم اُن کی توبہ کو شرف قبولیت ہوئی اور وہی لوگ جو خوف سے بیرون ملک مقیم تھے وہ کراچی کی سڑکوں پر بے خوف گھومنے لگے۔

اطلاعات ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید ایم پی اے اور ایم این اے پاک سرزمین پارٹی کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ماضی میں پی ایس پی جوائن کرنے والے اراکین اسمبلی ابھی تک ایمانداری سے ہر ماہ اپنی سرکاری تنخواہ اور مراعات حاصل کررہے ہیں۔

پاک سرزمین نے دو ماہ قبل ایم اے جناح روڈ پر جلسہ عام میں 20 نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور ساتھ ہی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر عوامی مسائل حل نہ کیے گئے تو کراچی کے سارے عوام سڑکوں پر نکلیں گے اور اپنے حقوق لینے تک واپس نہیں جائیں گے۔

الٹی میٹم کو گزرے کے بعد پی ایس پی قیادت نے اپنے اعلان کے مطابق پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا، ابتدائی دنوں میں اطراف کی سڑکوں پر بسیں کھڑی دکھیں جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی تاہم پنڈال بتدریج خالی دکھائی دیا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ایس پی کا دھرنا کیمپ خالی ہوتا جارہا ہے اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس پی سربراہ نے پریس کانفرنس کی اور دعویٰ کیا کہ 10 لاکھ افراد نکلیں گے انہوں نے کراچی کےعوام کو کہا کہ میری کال کا انتظار کریں اور بتائی گئی جگہ پر پہنچیں تاکہ مسائل حل ہوں۔

دھرنے کو چودواں روز ہونے کو ہے اس دوران پاک سرزمین پارٹی نے مختلف جماعتوں، کارباری، سماجی اور مذہبی شخصیات کو اپنے کیمپ کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور مختلف وفود نے چکر بھی لگایا اور اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا تاہم اتنے روز گزر جانے کے بعد بھی پاک سرزمین پارٹی ابھی تک خاطر خواہ عوام نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہاں مگر اس دوران دو کرامتیں ضرور سامنے آئیں دو غائب ہوئے رکن سندھ اسمبلی سامنے آئے اور مصطفیٰ کمال کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

مصطفیٰ کمال نے بالخصوص کراچی میں اپنا تنظیمی سیٹ اپ مکمل کرلیا ہے اور مختلف علاقوں میں اُن کے یونٹس (یوسی، زون) متحرک ہیں اور وہی پرانے لوگ جن سے اہل علاقہ عار کھاتے یا انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے وہ پی ایس پی کا پیغام گھر گھر پھیلا رہے ہیں مگر صورتحال حمایت میں جاتی نہیں دکھائی دے رہی، ہر قسم کے تعاون اور ریلیف کے باوجود مطالبات کی منظوری کے لیے  کسی بڑی کرامت کی ضرورت ہے جس کے لیے کیمپ پر بیٹھے سربراہ تسبیح ہاتھ میں لیے ورد کرتے نظر آتے ہیں۔

تصاویر : پی ایس پی فیس بک پیج

اپنا تبصرہ بھیجیں: