کل بھی الطاف حسین کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں

کراچی: سینٹرل جیل سے رہائی پانے والے ایم کیو ایم لندن کے رہنماء پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف نے کہا ہے کہ کل بھی الطاف حسین کے ساتھ تھا اور آج بھی ہوں، ہماری سیاست مہاجروں اور متوسط طبقے کی جدوجہد ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد ایم کیوایم (لندن) کے رہنما ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو جیل سے رہا کردیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 22 اگست کو ایم کیوایم بانی کی نفرت انگیز تقریر سے متعلق کیس میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی ضمانت منظور کی تھی جس کے 12 روز بعد انہیں جیل سے رہا کردیا گیا ہے جس کی تصدیق ان کے وکیل ثروت اسرار کی جانب سے بھی کردی گئی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جیل حکام کو ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی بنیاد پر ان کی رہائی کا حکم دیا جس پر انہیں رہا کیا گیا۔

ویڈیو 

رہائی کے بعد سینٹرل جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر حسن ظفر عارف نے کہا کہ میری رہائی کے لیے جن لوگوں نے دعائیں کی اُن کا شکر گزار ہوں، میں کل بھی الطاف بھائی کے ساتھ تھا اور آج بھی ہوں”۔

انہوں نے اپیل کی کہ بالخصوص کراچی میں رہنے والے مہاجر الطاف بھائی کا ساتھ دیں کیونکہ وہی اُن کی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، دیگر قومیتوں کے غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن ظفر نے کہا کہ الطاف حسین کی سیاست آپ لوگوں کے حقوق کی جدوجہد ہے۔

ویڈیو 

واضح رہےکہ ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو رینجرز نے 22 اکتوبر کو کراچی پریس کلب کے باہر سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ پریس کانفرنس کی غرض سے پریس کلب آئے تھے جب کہ ڈاکٹر حسن ظفر کو 20 دسمبر کو بانی ایم کیوایم کی نفرت انگیز تقریر سے متعلق کیس میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے بائیس اکتوبر کو قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ایم کیو ایم لندن کے تین رہنماؤں پروفیسر حسن ظفر عارف، امجد اللہ امجد، کنور خالد یونس کو گرفتار کیا تھا تاہم طبیعت ناساز ہونے کے باعث کنور خالد کو جلد رہا کردیا گیا تھا اور گزشتہ ہفتے امجد اللہ امجد کو رہا کیا گیا جنہوں نے واپسی پر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: