اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا التوا رکوانے اور اس کی باقاعدہ قانون سازی کے لیے وفاقی حکومت کو مراسلہ لکھ دیا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے مراسلے میں حکومت سے الیکشن ایکٹ 2019 کی شق 219 اور آرٹیکل 140 اے میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں ترمیم ضروری ہو تو مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے سے قبل کی جائے۔
مجوزہ آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ قانون میں ترمیم ایسے وقت کی جائے کہ مدت پوری ہونے پر چار ماہ میں بلدیاتی انتخابات ہوسکیں، بلدیاتی قانون میں ترمیم مقامی حکومتوں کے ختم ہونے سے ایک سال پہلے کی جائے۔علاوہ ذرائع الیکشن کمیشن نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ میں تبدیلی کے بعد الیکشن کمیشن کی تمام تیاریاں ضائع ہوجاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مراسلے میں کہا گیا کہ جو بھی قانون سازی کی جائے وہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے سے قبل کی جائے۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن آئین کے تحت بلدیاتی الیکشن کے ایکٹ پر عملدرآمد کا پابند ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے وفاقی دارلحکومت میں 31دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ نیاشیڈول مناسب وقت پر جاری کردیا جائے گا۔
بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کا 14صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارلحکومت کے لیے بلدیاتی سسٹم وضع کرنا اوریونین کونسلوں کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے جبکہ الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے۔فیصلے میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو بروقت اور بلا تاخیر بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کرنے اور آئین میں ترمیم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
