ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے وفد کی خالد مقبول کی سربراہی میں اجلاس ختم گورنر ہاؤس میں ہونے والا اجلاس ختم ہوگیا، جس میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں رابطہ کمیٹی کے اراکین اور گورنر نے شرکت کی، میٹنگ میں مہاجر نام پر سیاست کرنے والے رہنماؤں کی واپسی اور بلدیاتی انتخابات ہر بھی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے تمام ذمہ داران ، کارکنان ، اسیر کارکنان کو تنظیم کے ساتھ ثابت قدمی پر قائم رہنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ شہیدوں کو خراج عقیدت اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا عزم دہرایا گیا۔
اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے لاپتہ ساتھیوں کی عدم بازیابی پر تشویش کا اظہار اور ان کی بازیابی کے لیئے دعا بھی کی گئی۔
کنوینئیر و اراکین رابطہ کمیٹی نے گورنر سندھ کی شہری سندھ کے لئے تمام کاوشوں کو سراہا ل۔
دوران اجلاس پارٹی کنونیئر نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان شہری سندھ کی غریب متوسط طبقے کی واحد نمائیندہ جماعت ہے اور اپنے مشن کی طرف کامیابی سے گامزن ہے ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے دروازے ہر اس شخص کے لئے کھلے ہیں جو ایم کیو ایم کے آئین و قانون اور ایم کیو ایم پاکستان کے ڈسپلن کی پابندی پر کاربند رہ سکتا ہے۔
گورنر سندھ سے ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان غریب متوسط طبقے بالخصوص مہاجروں کی محرومیوں کے اذالے کی کوششیں جاری رکھے گی اور ایک مضبوط حکومت کی حامی یے۔
اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کا پی پی پی اور پی ایم ایل این کے ساتھ معاہدوں پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔
اندورنی کہانی
ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم قیادت نے سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کے انچارج فرقان اطیب کو ضلع وسطی کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جلد جاری کروانے کا مطالبہ گورنر سندھ کے سامنے رکھا۔
علاؤہ ازیں یہ بھی بات معلوم ہوئی کہ آئندہ 2، سے تین روز میں کراچی کی سیاست میں بڑی پیشرفت متوقع ہے کیونکہ ایم کیو ایم سے جاکر علیحدہ سیاسی جد وجہد کرنے والے کارکن کی حیثیت سے واپس آنے پر تیار ہیں۔
