کراچی : آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی لائبریری کمیٹی اور ادارہ علم دوست کے تعاون سے ”تیسراعلم دوست ایوارڈ2022ء“ تقریب کاانعقادکیا گیا۔
صدارت محمود شام نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی اکرم کنجاہی تھے۔ نظامت کےفرائض فرحانہ اویس نےانجام دیے ۔ اظہارِ خیال کرنیوالوں میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، شبیر عادل، اقبال لطیف ، میر حسین علی امام اور ڈاکٹر یاسمین فاروقی شامل تھے۔
اس موقع پرصدارتی خطبہ میں محمود شام نے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ہم اپنےملک کو نوجوانوں کا پاکستان کہتے ہیں مگر ہماری محفلوں میں زیادہ ترتعداد بزرگوں کی ہوتی ہے، ہماری نوجوان نسل کتابوں سےدور ہوتی جارہی ہے، موبائل پر اسکرین ٹائم بڑھتاجارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ بہت سےادارے ایسے ہیں جو نوجوانوں کو علم دانش حرف سے نزدیک رکھنےکی کوشش کررہے ہیں، مجھےابن شبیر کی ہمت اور علم دوستی پر رشک آتا ہے، ایسی بیماری میں لوگ ہمت ہار دیتے ہیں لیکن شبیر نے اس مرض کامقابلہ حرف و معنی سے محبت کرنیوالے افراد کے ساتھ مل کررہے ہیں جو آنیوالی نسل کومہذب دیکھناچاہتے ہیں۔
صدرآرٹس کونسل محمد احمد شاہ نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت سب سے بڑادین ہے،سب سے پہلےاچھاانسان ہوناضروری ہے، ہمیں یہ دیکھنا چاہیےکہ ہمارا اپنےکنبے اوراردگردکے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کیسا ہے۔
انہوں نےکہاکہ آپ کاجو علم ہے وہ سب سے بڑاسرمایہ ہے، علم کی فضیلت کو قابل عزت سمجھاجائے تو معاشرے میں سدھار پیدا ہوسکتا ہے، شبیر ابن عادل اچھے انسان ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے۔
اکرم کنجاہی نے کہا کہ شبیر ابن عادل نے ہمیشہ علم کی فضیلت کو اُجاگرکیا،ان کا یہ شوق اور جنون اس بات کی گواہی ہے کہ بیماری کے باوجود مسلسل تقریب کاانعقاد کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کی سربراہی میں آرٹس کونسل ایک مکمل ادبی ، ثقافتی اور علمی ادارہ بن چکاہے۔
لائبریری کمیٹی کے چیئرمین اقبال لطیف نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ علم دوست نے جوکام شروع کیا ہے ہمیں اس آگے بڑھانا چاہیے تاکہ علم کی روشنی ہرجگہ پھیل سکے،آرٹس کونسل نے ہمیشہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور آئندہ بھی علم وفنون کے لیے کام کرتا رہے گا۔
