مزاح نگاری کے بے تاج شہنشاہ عمر شریف کوبچھڑے 2 سال ہوگئے

کراچی: مزاح نگاری کے بے تاج ب شہنشاہ عمر شریف کو مداحوں سے بچھڑے 2 سال بیت گئے لیکن مداحوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں۔

عمر شریف نے اپنی مزاحیہ شاعری اور اداکاری سے کم وقت میں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی۔

عمر شریف 66 برس میں 2 اکتوبر 2021 کی دوپہر کو دورانِ علاج جرمنی میں انتقال کرگئے تھے۔انہوں نے اس وقت شہرت حاصل کی جب کامیڈین معین اختر، اسمٰعیل تارا اور ماجد جہانگیر انتہائی مقبول تھے۔

عمر شریف نے اپنی کامیڈی سے کراچی کے ناظرین کی توجہ حاصل کی اور اپنے کریئر کے سفر کا آغاز کیا جو 40 سال کے عرصے تک محیط رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے چٹکلوں اور مکالموں سے ملک بھر میں مقبولیت پائی۔ انہوں نے 50 سے زائد اسٹیج ڈراموں میں کام کیا تھا کہ جبکہ ’بکرا قسطوں‘ سے انہیں عالمی سطح پر بھی شہرت ملی۔

عمر شریف کے مقبول اسٹیج ڈراموں میں ’میری بھی تو عید کرادے‘، ’یہ ہے نیا تماشہ‘، ’یہ ہے نیا زمانہ‘ اور ’بڈھا گھر پر ہے‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ’حساب‘، ’کندن‘، ’مسٹر 420‘،’خاندان‘ اور ’لاٹ صاحب‘ جیسی فلموں میں بھی کام کیا، جن میں ’مسٹر 420‘ کافی مقبول ہوئی ۔ جب الیکٹرانک میڈیا کا دور آیا تو انہوں نے مختلف پلے کیے اور ٹاک شوز کی میزبانی کی، انہوں نے نجی چینل جیو ٹی وی پر ’دی شریف شو‘ کی میزبانی بھی کی۔ وہ ’ففٹی ففٹی‘، ’پردہ نہ اٹھاؤ‘ ،’ جیسے ٹی وی شوز کا حصہ بھی رہے۔ انہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اپنی کامیڈی سے کراچی کے ناظرین کی توجہ حاصل کی اور اپنے کریئر کے سفر کا آغاز کیا جو 40 سال کے عرصے تک محیط رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے چٹکلوں اور مکالموں سے ملک بھر میں مقبولیت پائی۔وہ 66 برس میں 2 اکتوبر 2021 کی دوپہر کو دورانِ علاج جرمنی میں انتقال کرگئے تھے۔انہوں نے اس وقت شہرت حاصل کی جب کامیڈین معین اختر، اسمٰعیل تارا اور ماجد جہانگیر انتہائی مقبول تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: