سعودی عرب: ملازمین کا خصوصی الاؤنس پھر بحال

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے سرکاری ملازمین اور فوجی حکام کو ملنے والے بونس اور خصوصی الاؤنس پھر سے بحال کر دیے ہیں جو گذشتہ برس کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت منقطع کر دیے گئے تھے۔

حکومت نے تیل سے ہونے والی آمدن میں کمی کے پیش نظر گذشتہ برس ستمبر میں حکومتی اخراجات میں کفایت شعاری برتنے کے لیے سرکاری ملازمین کو ملنے والی خصوصی مالی مراعات کو روک دیا تھا۔

شاہ سلمان نے سول سروس سے متعلق اپنے وزیر کو بھی برطرف کر دیا ہے اور اختیارات کے بےجا استعمال کے معاملے میں ان کے خلاف تفتیش کا حکم دیا گيا ہے۔

نئے حکم نامے کے تحت شاہ سلمان نے اپنے بیٹے شہزادہ خالد کو امریکہ میں سعودی عرب کا نیا سفیر مقرر کیا ہے۔

واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والے شہزادہ خالد نے امریکہ میں رہتے ہوئے جنگی جہاز کے پائلٹ کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ شام میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف ہونے والی کارروائی کے تحت فضائی حملوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

شاہ سلمان نے حکم دیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں ہونے والی فوجی کارروائی میں حصہ لینے والے جو فوجی محاذ جنگ پر تعینات ہیں، انھیں دو ماہ کی اضافی تنخواہ ادا کی جائے۔

نئے حکم نامے میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ گذشتہ برس وزرا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی تیل کی گرتی قیمتوں کی وجہ سے کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جنوری میں تیل کی قیمتیں تقریباً 28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جس میں اب اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تقریباً 52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس برس کی پہلی سہ ماہی میں اس کے معامشی اخراجات میں بہتری درج کی گئی اور مستقبل میں مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

گذشتہ برس کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت حکومت نے وزرا کی تنخواہوں میں 20 فیصد جبکہ شوریٰ کونسل کے ارکان کی رہائش اور کار الاؤنسوں میں 15 فیصد کی کمی کا اعلان کیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی کم تر درجے کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں جس اضافے کا اعلان کیا گیا تھا اس پر بھی روک لگا دی گئی تھی۔

شاہی حکم نامے کے تحت سرکاری ملازمین کو ملنے والے اضافی مالیاتی فوائد بھی واپس لے لیے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: