2023 عالمی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی !

واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم یف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ زیادہ تر عالمی معیشتوں کے لیے 2023 ایک مشکل سال ہو گا کیوں کہ عالمی شرح نمو کے اہم انجنوں، امریکہ، یورپ اور چین کو کمزور اقتصادی سرگرمیوں کا سامنا رہا ہے.

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیا سال ابھی ختم ہونے والے سال سے زیادہ مشکل ہونے والا ہے کیوں کہ ترقی کے تینوں بڑے مراکز بیک وقت اقتصادی سست روی کو شکار ہیں.

جارجیوا نے انٹرویو میں کہا کہ 40 برسوں میں ایسا پہلی بار ہونے کا امکان ہے کہ سال 2022 میں چین کی ترقی عالمی نمو کے برابر یا اس سے کم ہوگی. انہوں نے کہا کہ چین میں آنے والے مہینوں میں کرونا وائرس کی متوقع ”بش فائر“ یعنی تیزی سے پھیلنے کی صورت میں اس سال اس کی معیشت کو مزید متاثر کر سکتی ہے اور علاقائی اور عالمی ترقی دونوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے چین میں تھیں لیکن وہ ایک ایسے شہر میں تھیں جہاں کرونا کا کوئی کیس نہیں تھا لیکن ایک بار جب لوگ سفر کرنا شروع کردیں گے تو یہ صورت نہیں رہے گی.