کراچی کے دل میں‌ طالبان رہائش پذیر، اسلحہ جمع کرلیا مگر ناکام رہے

کراچی کے علاقے اردو بازار میں رینجرز نے 7 گھنٹے جاری رہنے والے مقابلے کے بعد خاتون سمیت 2دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔ آپریشن کے دوران 5 دہشتگردمارے گئے۔

 ”روزنامہ امت“ کے مطابق رینجرز کے ساتھ مقابلے کے دوران ایک دہشتگرد نے گرفتاری سے بچنے کیلئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ، آپریشن کے دوران دہشتگردوں نے کریکر حملے سے رینجرز اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں 4 جوانوں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے۔

رینجرز اہلکاروں نے رات گئے اردو بازار میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر مریم سینٹر پر چھاپا مارا تو دہشتگردوں نے دستی بم سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں چار جوان زخمی ہو گئے تاہم حملے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے عمارت کو گھیر لیا اور اس دوران اندر چھپے دہشتگرد رینجرز اہلکاروں پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ اور دستی بم پھینکتے رہے ۔جوابی فائرنگ سے 4دہشتگرد مارے گئے جن میں سے 2کی شناخت حمید اور نعیم کے ناموں سے ہوئی ہے جو پشاور اور کوئٹہ کے رہائشی ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مقابلے کے بعد ایک دہشتگرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ، چار مارے گئے جبکہ خاتون سمیت 2دہشتگردوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔ آپریشن کے دوران 4رینجرز جوان بھی زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔

ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاع تھی کہ دوسرے صوبے سے آئی ایک فیملی کے 5 افراد نے رہائشی عمارت میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے تاہم ان کی گرفتار ی کیلئے چھاپہ مارا گیا تو دہشتگردوں نے رینجرز پر حملہ کردیا۔

بعد ازاں رینجرز اہلکاروں نے فلیٹ کو سیل کر کے مالک کو گرفتار کرلیا جو برنس روڈ پر خود کا ہوٹل چلاتا ہے، رینجرز نے سہولت کاری کے الزام میں اب تک 15 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: