دو دریا پر خودکشی کرنے والی خاتون ڈاکٹر سارہ ملک کی موت معمہ بن گئی

کراچی: سمندرمیں چھلانگ لگا کرمبینہ طورپرخود کشی کرنے والی 22 سالہ ڈاکٹر سارہ ملک نامی خاتون کی موت معمہ بن گئی ۔

اہل خانہ نے پراسرارموت کی تفتیش اورپولیس کارگردگی پرعدم اطمنیان کا اظہارکیا ہے۔دو دریا سی ویو پوائنٹ پرجمعہ کی شب ایک خاتون نےسمندر میں چھلانگ لگا کر مبینہ طور خودکشی کر لی۔

پولیس کی جانب سے پراسرار موت کی تفتیش جاری ہے جبکہ خاتون کے چاچا نے پولیس کی کارکردگی کو غیرتسلی بخش قرار دیا ہے۔

کراچی کی رہائشی سارہ ملک کی مبینہ طور پر سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کے بعد اُس کی لاش تاحال برآمد نہیں کی جاسکی ہے لڑکی کا بیگ دودریا کے قریب سے برآمد ہوا ہے جس میں شناختی دستاویزات موجود تھیں،پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کی شناخت 22 سالہ سارہ ملک ولد ابرار احمد ، اعظم بستی محمود آباد کی رہائشی بتایا ہے۔وہ جانوروں کے اسپتال میں کام کرتی تھی۔

سارہ ملک کے والد ابرار احمد کا کہنا ہے کہ وہ ایک ریٹائرڈ پولیس ہیڈ کانسٹیبل ہیں،سارہ ملک نے اپنا ہاؤس جاب مکمل کرلیا تھا اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں کہ اس نے ایسا قدم کیوں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا انہیں کسی پر شک نہیں ہے۔

لڑکی کے چاچا کا کہنا ہے کہ ہماری بیٹی بہت سمجھدار بچی تھی وہ خودکشی نہیں کرسکتی ، اس سارے معاملے پر انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ اگر پولیس صحیح طریقے سے تفتیش کرے گی تو اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔