نئی دہلی: بھارت میں جنونی ہندوؤں کی انتہا پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، کرناٹک میں ہندو انتہا پسند وں نے ایک مسلمان نوجوان کو ہندو لڑکی سے بات کرنے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور ہراسیت کا مقدمہ کرادیا
۔نئی دہلی میں ایک شدت پسند ہندو نوجوان نے قریب بیٹھنے کی جگہ مانگنے پر دو لڑکوں نے اسے چاقو کے وار کرکے قتل کردیا۔ بنگلورو میں ہندو انتہاپسندی کا مظاہرہ ایک خاتون پر تشدد کی صورت میں سامنے آیا ۔
اپنی عبادت گاہ مندر کے تقدس کا بھی خیال نہ کیا گیا اور جنونیوں نے خاتون پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ دوسری طرف دوران پرواز خاتون مسافر پر پیشاب کرنے والے ہندو ملزم کو آخر کار 6 ہفتے بعد گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹکا کے ضلع دکشینا کنندا میں 20 سالہ مسلم نوجوان کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے بس سٹینڈ پر ایک 17 سالہ ہندو لڑکی سے گفتگو کی۔
بھارت کے شہر بنگلورو میں خاتون پر مندر کے اندر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون کو بالوں سے پکڑ کر ایک شخص اس پر تھپڑوں کی بارش کر رہا اور دیگر لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ نئی دہلی میں سردی کے باعث آگ تاپنے لیے جگہ مانگنے پر نوجوان کو دو لڑکوں نے چاقو کے وار کرکے قتل کردیا۔ سمت نے قتل کا اطراف کرلیا۔
نومبر میں ایئر انڈیا کی پرواز میں نشے میں دھت ہندو مسافر نے بزرگ خاتون پر پیشاب کردیا تھا ۔ پولیس نے 6 ہفتوں کی محنت کے بعد ملزم شنکر مشرا کو ڈرامائی انداز سے گرفتار کرلیا۔
