کراچی: وزیراعظم عمران خان کی شہر قائد آمد بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کے لیے بہت مبارک ثابت ہوئی کیونکہ انہیں عدالت سے دو مقدمات میں باعزت بری قرار دے دیا گیا۔
فاروق ستار کے خلاف 27 جون 1987 کو نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہوا تھا جس میں بلوے اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کی دفعات شامل تھیں۔
ایم کیو ایم رہنما کے خلاف ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے سیکشن 3/2 کے اور 13-ڈی کے تحت درج کی گئی تھی۔
کراچی کے سیشن کورٹ میں آج مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں فاروق ستار پر جرم ثابت ہو سکا اور جج نے انہیں مقدمے سے باعزت بری قرار دیا۔
مقدمہ پانی کی عدم فراہمی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد درج کیا گیا تھا، ایم کیو ایم نے ریڈ زون میں احتجاج کیا تھا جس کے بعد پی آئی بی تھانے میں سرکاری مدعیت میں پرچہ کٹا تھا۔
قبل ازیں ایک اور کیس میں سیشن کورٹ نے فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کے 8 رہنماؤں کو لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر درج ہونے والے مقدمے میں باعزت بری قرار دیا۔ عدالت نے میئر کراچی وسیم اختر، خالد مقبول صدیقی، حیدرعباس رضوی سمیت تمام 8 رہنماؤں کو بے گناہ ہونے پر بری کیا۔
