کراچی: بلوچستان میں تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں، 2018 کے سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ نون بلوچستان کے بطن سے جنم لینے والی اسٹیبلشمنٹ کی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اپنے آخری سفر کی طرف رواں دواں ہے۔ پہلے سے ہی دھڑوں میں تقسیم پارٹی کے اراکین اب پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان کے اہم سیاسی رہنما سابق وفاقی وزیر سردار فتح محمد حسنی، سابق صوبائی وزراء نوابزادہ گزین مری اور طاہر محمود پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے،دیگرشمولیت کرنے والوں میں وزیراعلی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر نوابزادہ جمال رئیسانی، میر فرید رئیسانی، میر عبداللہ راہیجا اور میر اللہ بخش رندشامل ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی میں بلوچستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کے موقع پر علی مدد جتک، حاجی ملک گورگیج، نور احمد بنگلزئی، میر عبید گورگیج، محمد عیسی فتح، لالہ بخش، محی الدین، محمد رضا، ظہور بلیدی، روؤف، اقبال، لیاقت علی ودیگر بھی موجودتھے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونے والے بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو مبارک باد دی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک تاریخی رشتہ ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے لئے حقیقی جدوجہد کی ہے،بلوچستان کی سیاست میں پاکستان پیپلزپارٹی ایک مضبوط ترین فریق ہے۔پیپلزپارٹی بلوچستان کے عام آدمی کے حقوق کے لئے اپنی جدوجہد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ بلوچستان میں چلتی سیاسی ہوائیں صرف حکمران جماعت بی اے پی پر ہی اثر انداز نہیں ہو رہیں بلکہ تحریک انصاف سے بھی پرندے اڑان بھرنے اورپیپلزپارٹی میں جانے کی تیاری کررہے ہیں،آئندہ عام انتخابات سے قبل بلوچستان بھر سے طاقتورسیاسی امیدواروں کو چننے اورپیپلزپارٹی کی نئی صف بندی کا سلسلہ سابق صدرآصف علی زرداری نے شروع کیا ہے اس پر مخالفین پریشان ہیں۔
