Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
چیئرمین نیب کی ویڈیو سامنے لانے والی خاتون کی زندگی کو خطرات لاحق | زرائع نیوز

چیئرمین نیب کی ویڈیو سامنے لانے والی خاتون کی زندگی کو خطرات لاحق

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ویڈیو بنا کر سامنے لانے والی خاتون نے کہا ہے کہ مقتدر حلقوں نے چینلز کی آواز دبا کر خبر دبا دی، میری جان کو خطرہ ہے مگر پھر بھی کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل جاؤں گی۔

پاکستان 24 کے مطابق پاکستان کے قومی احتساب بیورو نیب کے چیئرمین کی ویڈیو بنانے والی خاتون طیبہ فاروق نے کہا ہے کہ وہ جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی محتسب سے لے کر سپریم جوڈیشل کونسل تک ہر فورم سے رجوع کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی خبر روک کر میڈیا کو خاموش کر دیا گیا اب ان کی جان خطرے میں ہے۔ طیبہ فاروق کا کہنا تھا کہ لاہور میں جن لوگوں نے جمعہ کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کی وہ سارے نیب مقدمات میں ملزم ہیں۔

”سردار اعظم رشید لاہور میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ہیں جن کے خلاف سنہ 2018 میں نیب کو درخواست دی تھی۔“

انہوں نے کہا کہ جس مقدمے میں وہ مدعی ہیں پریس کانفرنس کرنے والوں نے انہیں ملزم بنا کر پیش کیا۔ طیبہ فاروق نے بتایا کہ ان کی جاوید اقبال سے پہلی ملاقات جی الیون میں لاپتہ افراد کمیشن کے دفتر میں ہوئی تھی۔ ”سنہ 2017 میں اپنے شوہر کی ضلع جھنگ سے لاپتہ ہونے والی چچی کے مقدمے کے سلسلے میں پہلی بار جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی۔“

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سنہ 2018 میں جاوید اقبال سے دو ملاقاتیں ہوئیں پھر انہوں نے جگہ جگہ بلانا شروع کیا۔ ”یہ ویڈیو اُن ہی ملاقاتوں کے دوران مختلف اوقات میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے اصل چہرے کو سامنے لانے کے لیے بنائی تھیں،

چیئرمین نیب کی متنازع اور نازیبا ویڈیو لیک، سرکاری دفتر میں‌ خاتون کو گلے لگایا

مسز فاروق نے بتایا کہ ان کو نیب نے شوہر کے ہمراہ بغیر کسی ابتدائی انکوائری کے صرف ایک شکایتی درخواست پر 15 جنوری کو گرفتار کیا۔ ”مجھے ضمانت پر رہائی مل گئی مگر شوہر تاحال جیل میں ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب سچے ہیں تو سامنے آئیں۔ ”وہ بڑے عہدے پر ہیں۔ میڈیا پر دباؤ ڈال کر ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔ مجھے میڈیا سے کوئی امید نہیں ہے۔ گزشتہ رات جب مجھے لائیو شو میں بٹھا کر دباؤ سے خبر کو روکا گیا تو امید ٹوٹ گئی۔“ طیبہ فاروق نے نیب کے چیئرمین کو چیلنج کیا کہ وہ سامنے آئیں اور بات کریں۔ ”میں وفاقی محتسب اور سپریم جوڈیشل کونسل سمیت ہر فورم پر جاؤں گی مگر اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں۔“


یاد رہے کہ دو روز قبل چیئرمین نیب کی ویڈیو اور آڈیو سامنے آئی تھی جس میں طیبہ فاروق نامی خاتون تھی، نیب کی جانب سے ویڈیو کی تردید یا نیب دفتر میں ہونے والی ملاقاتوں کی تردید نہیں کی گئی البتہ یہ ضرور بتایا گیا کہ مذکورہ گروہ بلیک میلنگ کا کام کرتا ہے،
ویڈیو میں بھی سُنا جاسکتا ہے کہ چیئرمین نیب خاتون کے ساتھ واہیات گفتگو کررہے ہیں اور وہ خاتون اور اُن کے شوہر کے حوالے سے بھی ذکر کررہے ہیں۔ ایک موقع پر چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ تم تو باہر آگئیں نا اب وہ بھی آجائے گا۔