کراچی:کراچی کے بلدیاتی ڈھانچے میں 246 یونین کمیٹیز، 25 ٹائون کونسل اور بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل شامل ہیں۔ یعنی 246 یونین کمیٹیز کے 246 چیئرمین اور وائس چیئرمین، 25 ٹائون کے 25 ٹائون چیئرمین اور وائس چیئرمین جبکہ کراچی کی سطح پر میئر اور ڈپٹی میئر ہوگا۔
شہر قائد کی 246 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل جبکہ یونین کمیٹیوں کے وائس چیئرمین اپنے اپنے ٹائون کی کونسل کے رکن ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کو 25 ٹائونز اور 246 یونین کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر یونین کمیٹی کے چیئرمین وائس چیئرمین (مشترکہ) اور 4 وارڈ ممبر کے لیے انتخابات ہورہے ہیں۔
یعنی کراچی میں 246 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین ہونگے۔ یونین کمیٹیوں کے چیئرمین بلدیہ عظمی کراچی کی کونسل کے رکن ہونگے یعنی کے ایم سی کا ایوان 246 یونین کمیٹیوں کے چیئرمین پر مشتمل ہوگا جو 1 فیصد خواجہ سرا (2 )، 1 فیصد خصوصی افراد (2 افرد)، 33 فیصد خواتین (81 خواتین)، 5 فیصد نوجوان (12 نوجوان) اور 5 فیصد مزدور یا کسان (12 افراد) کی مخصوص نشستوں کا انتخاب کرے گا اور یہ تمام ارکان میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات میں حصہ لینگے۔ دوسری جانب اسی طرح یونین کمیٹیوں کے وائس چیئرمین اپنے اپنے ٹائون کی کونسل کے رکن ہونگے۔
ہر ٹائون کی یونین کمیٹیوں کی تعداد علیحدہ علیحدہ ہے اس طرح ٹائون کونسل کے ارکان کی تعداد بھی مختلف ہوگی مگر مخصوص نشستوں کی شرح یکساں ہے یعنی ہر ٹائون میں 1 فیصد خواجہ سرا، 1 فیصد خصوصی افراد، 33 فیصد خواتین، 5 فیصد نوجوان، اور 5 فیصد مزدور یا کسان کی مخصوص نشستوں پر انتخاب ہوگا اور پھر ٹائون کے چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کیا جائے گا۔
یونین کمیٹیوں کی بات کی جائے تو ہر یونین کمیٹی میں چیئرمین وائس چیئرمین (مشترکہ) اور 4 وارڈ ممبر کے لیے الیکشن ہورہے ہیں جو منتخب ہونے کے بعد مخصوص نشستوں پر ایک نوجوان، ایک اقلیت، ایک مزدور یا کسان اور 2 خواتین کا انتخاب کرے گی، اس طرح ایک یونین کمیٹی چیئرمین وائس چیئرمین اور 9 وارڈ ممبر پر مشتمل ہوگی۔
بلدیاتی انتخابات میں ہر ووٹر کو 2 ووٹ دینے ہونگے جس کے لیے انہیں 2 بیلٹ پیپر ملیں گے۔ ایک بیلٹ پیپر پر انہیں 1 چیئرمین وائس چیئرمین (مشترکہ) جبکہ دوسرے بیلٹ پیپر پر انہیں 1 وارڈ ممبر کو ووٹ دینا ہوگا۔ زیادہ ووٹ دینے کی صورت میں ان کا ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔
